کوئٹہ :وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو اور وزیراعلی بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند نے مشترکہ پریس کانفرنس میں ہنہ اوڑک میں دہشتگرد حملے، جاری سیکیورٹی آپریشن، مظاہرین سے مذاکرات اور امن و امان کی صورتحال پر حکومت کا مقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی علاقے کے مکمل کلیئر ہونے تک جاری رہے گی۔وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ گزشتہ رات دہشتگردوں نے ہنہ اوڑک کے محب وطن شہریوں پر حملہ کیا، تاہم مقامی افراد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے
جس کے دوران 2اے ٹی ایف اہلکار زخمی جبکہ 3دہشتگرد مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد 7افراد کو اغوا کرکے لے گئے ہیں جبکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق ہنہ اوڑک میں ایک چیک پوسٹ بھی قائم کر دی گئی ہے اور دہشتگردوں کا مقصد علاقے کے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔معاون برائے وزیراعلیٰ شاہد رند نے کہا کہ ہنہ اوڑک میں سیٹائزیشن آپریشن کیا جائے گا اور جب تک علاقہ مکمل طور پر کلیئر نہیں ہوتا آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ واٹس ایپ گروپس میں غیر مصدقہ خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شاہد رند نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی سربراہی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کریں گے جبکہ کمیٹی کے ارکان مظاہرین سے مذاکرات بھی کریں گے تاکہ صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ مظاہرین ہمارے اپنے لوگ ہیں اور حکومت ان کے جذبات کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ رات انہوں نے خود ہنہ اوڑک کا دورہ کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر منظور کاکڑ نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہوگا۔وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ دہشتگردوں کو بھارت کی حمایت حاصل ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین بھی دہشتگردوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم ہے اور مسلم لیگ(ن)کا یہ اندرونی معاملہ ہے کہ وہ کس کو وزارت دیتی ہے۔
ہنہ اوڑک حملہ ناکام، 3 دہشتگرد ہلاک، 2اے ٹی ایف اہلکار زخمی ، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن مکمل کامیابی تک جاری رہے گا، وزیر داخلہ بلوچستان
9













