کوئٹہ: جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی جماعتیں درزی کی دکان پر بنتی ہیں، درزی وہی، دکان وہی، کپڑا وہی، ناپ وہی اور چہرے بھی وہی ہوتے ہیں، صرف ہر الیکشن کے موقع پر سوٹ نیا، رنگ نیا اور سیاسی لیبل نیا لگا دیا جاتا ہے، عوام کو سمجھ لینا چاہیے کہ اگر کپڑا، درزی اور دکان وہی ہے تو سوٹ بدلنے سے کردار نہیں بدلتا، یہ کوئی نئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ پرانے زرخرید سیاسی لوٹوں کا نیا ٹولہ ہوگا جو ہر الیکشن سے پہلے نئی پیکنگ کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں نظریے، منشور، عوامی خدمت اور اصولوں سے بنتی ہیں، درزی کی قینچی، دھاگے اور نئے لیبل سے نہیں، بلوچستان کے عوام اتنے سادہ نہیں کہ ہر بار پرانے چہروں کو نیا سوٹ پہنا کر انہیں نئی قیادت کے نام پر فروخت کردیا جائے، عوام کو چاہیے کہ ایسے موسمی سیاسی منصوبوں کو اچھی طرح پہچانیں اور انتخابات میں ان کا استقبال ووٹ کی طاقت سے کریں، کیونکہ گندے انڈے اور بوسیدہ ٹماٹر تو ضائع کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اصل جواب ووٹ کی پرچی سے دیا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ جو لوگ اقتدار کے موسم کے ساتھ اپنی وفاداریاں، جماعتیں اور نظریات تبدیل کرتے رہے ہیں، انہیں عوام کے سامنے اپنی سابقہ سیاسی تاریخ کا حساب بھی دینا ہوگا، صرف نام، جھنڈا اور لباس تبدیل کرنے سے ماضی کے کارنامے دھل نہیں جاتے، مولانا حافظ حمد اللہ نے کہا کہ بلوچستان اس وقت نئے سیاسی ڈراموں کے بجائے امن، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور حقیقی عوامی نمائندگی کا متقاضی ہے، سیاست کو ذاتی مفادات اور اقتدار کی بندر بانٹ کا ذریعہ بنانے کے بجائے عوامی خدمت کا وسیلہ بنانا ہوگا، انہوں نے مستونگ میں قبائلی رہنما سردار شاہ زمان علیزئی کو بیٹے سمیت اغوا کیے جانے کے واقعے اور پشین کے علاقے سرانان تھانے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی، اغوا اور سرکاری تنصیبات پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں، حکومت اور متعلقہ ادارے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن و امان کے قیام میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سردار شاہ زمان علیزئی اور ان کے بیٹے کی فوری اور بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جائے، سرانان تھانے پر حملے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بلوچستان میں حکومتی رٹ بحال کرکے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
بلوچستان میں سیاسی جماعتیں درزی کی دکان پر بنتی ہیں، سوٹ بدلنے سے کردار نہیں بدلتا، حافظ حمد اللہ
29











