پاکستان پورے خطے کے سب سے نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے،گورنر بلوچستان

31

کوئٹہ:گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی آبادی بنیادی طور پر عوام، ان کے معیار زندگی، روزگار کے مواقع اور ان کی معاشی آسودگی سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی آبادی رواں سال 2026 کے آخر تک چھبیس کروڑ تک پہنچ جائیگی جو پاکستان کو دو بڑے چیلنجوں کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ پہلا تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرنے کا انتظام ہے۔ دوسرا اور شاید اس سے بھی زیادہ اہم، اس بڑی آبادی کو ایک مہارت یافتہ، پیداواری، صحتمند اور ہنرمند افراد قوت میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ دونوں بہت چلینچنگ ذمہ داریاں ہیں۔ آج کی کامیاب تقریب کے انعقاد پر پرنس آغا عمر احمدزئی اور ان کی پوری ٹیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں ورلڈ پاپولیشن ڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکرٹری پرنس آغا عمر احمدزئی، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نواز کبزئی، صوبائی سیکرٹری ظفر بلیدی، ہو این ڈی پی کے ذوالفقار درانی، سابق سینیٹر روشن خورشید بروچہ، بی آر ایس پی کے چیئرمین ملک انور سلیم کاسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر طاہر رشید اور ڈائریکٹر گورنر سیکرٹریٹ عطائ الرحمٰن خلجی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ شرکاءسے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یہ بات پاکستان اور بلوچستان دونوں کیلئے حوصلہ افزا ہے کہ پاکستان پورے خطے کے سب سے نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے
جبکہ صوبہ بلوچستان اپنی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے ینگیسٹ آبادی رکھنے والا صوبہ ہے۔ یہ نوجوان آبادی ایک غیرمعمولی موقع کی نمائندگی کرتی ہے تاہم پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس بات پر نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس کتنے لوگ ہیں۔ زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم انہیں کتنی معیاری تعلیم دیتے ہیں، ہم کتنے موثر طریقے سے انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرتے ہیں، کتنی کامیابی سے ہم روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور ہم انہیں ملکی و قومی تعمیر ترقی میں حصہ ڈالنے کیلئے کتنے اعتماد کے ساتھ بااختیار بناتے ہیں۔ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہم نے ہماری پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں سکل ڈویلپمنٹ پروگرامز شروع کئے ہیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی آبادی میں پچھلے 30 سالوں کئی گنا اضافہ ہوا جبکہ وسائل میں اسی مقدار میں اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ فیملی پلاننگ کے حوالے سے شعور و آگہی کی مہم کو ڈسٹرکٹ اور یونین کونسل کی سطح تک وسعت دی جائے اور آبادی میں بےتحاشہ اضافہ کو کنٹرول کرنے کیلئے مزید اقدامات ا±ٹھائیں جائیں تاکہ ہم پاکستان اور بلوچستان کی آبادی کو دیرپا امن، خوشحالی اور معاشی ترقی کے ایک طاقتور انجن میں تبدیل کریں۔ کثرتِ آبادی سے متعلق پروگرام منتظمین اور شرکاءمیں یادگاری شیلڈز تقسیم کرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں