اسلام آباد/کوئٹہ: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت چند دن کی مہمان ہے، طے ہے کہ مائنس عمران خان فارمولا کوئی قبول نہیں کرے گا، ان ہاؤس تبدیلی سے کچھ نہیں ہوگا اگر ایک ایسی عبوری حکومت بنائی جائے جو مستقبل کے ایک صاف شفاف انتخابات کے انتظامات کرے، چہرے تبدیل کرنے سے پاکستان تبدیل نہیں ہوگاجبکہ چہرے بدلنے سے پاکستان یہاں تک پہنچ چکا ہے۔ صحافی کے سوال پر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمن صاحب عبوری وزیر اعظم بن جائے میں حمایت کروں گا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو کم از کم ان نکات پر متحد ہونا چاہیے۔پارلیمنٹ ہی طاقت کا سرچشمہ ہو۔ آئین یا پرانا آئین بحال ہو۔ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہے،ابھی تو لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ خدانخواستہ کہیں ہم نئی آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ نہ کر لیں۔ اس وقت پاکستان کی وہ سکت نہیں ہے۔ آئین بحال ہو، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو۔ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہے اس بات پر ساری پارٹیاں اتفاق کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبے بنانے اور صوبے توڑنے کا فارمولا آئین میں موجود ہے۔ آئین سے ماورا کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فلاں جگہ کو اٹک میں شامل کر دو، یا فلاں جگہ کولوگ اتنے سادے نہیں ہیں۔ اگر آپ لوگوں کے دریاؤں پر قبضہ کریں گے، لوگوں کے پانیوں پر قبضہ کریں گے، تو پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔میں ابھی تک عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی سے نہیں ملا۔زبان بندی کوئی نہیں کہلاتا۔ سپریم کورٹ نے یہ کہا تھا کہ بابا چونکہ عمران خان بہت پاپولر لیڈر ہیں، ہزاروں، لاکھوں لوگ جمع ہو جائیں گے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ بھئی ہم یہ گارنٹی کرتے ہیں آپ ان کو لے آئیں۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی ڈیل کی تمام افواؤں کی تردیدکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ زیادتی بہت برُی بات ہے، جو موجودہ حکومت کر رہی ہے۔ عمران خان پاکستان کا سب سے پاپولر لیڈر ہے۔ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، کوئی برا کام نہیں کیا ہے۔ وہ ملک کا پریمیئر رہا ہے اور وہ ضمیر کا قیدی ہے، اصولوں کا قیدی ہے۔ اس کا حق بنتا ہے۔ اگر وہ یہ سب کچھ نہ بھی ہو اور ایک عام قیدی ہو، تب بھی اس کا حق بنتا ہے کہ اسے ہسپتال لے جایا جائے اور اس کے رشتہ دار اس سے ملیں۔ اگر یار لوگ یہ سب کچھ کر رہے ہیں، تو بس ان کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔
موجودہ حکومت چند دن کی مہمان ہے، مائنس عمران خان فارمولا قبول نہیں، محمود خان اچکزئی
28











