بلوچستان میں روزانہ پچاس ساٹھ لوگ مارے جارہے ہیں، ایوان میں کم از کم دوروز تک بلوچستان کی صورتحال پر بحث کرائی جائے،محمود خان اچکزئی

36

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بنیادی طور پہ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے ایک دو دن رکھ لیں سارے لوگ بولنا چاہتے ہیں، روزانہ کم سے کم پچاس ساٹھ آدمی قتل ہوتے ہیں سب بولیں گے تو شاید کوئی راستہ نکل آئے، بلوچستان میں روزانہ پچاس ساٹھ لوگ مارے جارہے ہیں دہشت گردی سمیت دیگر مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں ایوان میں کم از کم دوروز تک بلوچستان کی صورتحال پر بحث کرائی جائے۔

اسلام آباد/ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر،پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر پاکستان مسائل میں گرا ہوا ہے۔ ملک کے طول وعرض میں دہشت گردی،ہر جگہ قتل وقتال اور مائنز ومنرل پر لڑائیاں جاری ہیں، وزیرستان، باجوڑ، خیبر تک بُرا حال ہے۔ ان سب مسائل پر یہاں اراکین بولنا چاہتے ہیں۔سپیکر صاحب آپ دو دن رکھ لیں تاکہ یہاں آفریدی، بلوچ بھائی اور دیگر سب بات کریں۔ اگر ان مسائل پر بات نہ کی گئی تو عوام ہمیں معاف نہیں کریگی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پتہ نہیں ہم اتنے بے حس کیوں ہوگئے ہیں روزانہ کی بنیاد پر پچاس سے 60آدمی گولیوں، دھماکوں میں قتل ہورہے ہیں جس میں پولیس اور عام بندے، بچے مررہے ہیں۔ آپ لوگ مشورہ کرلیں وزراء صاحبان بھی بیٹھے ہوئے ہیں خواجہ آصف بھائی، یہاں بیرسٹر گوہر صاحب۔ کوئی دو دن رکھ لیں ان مسائل پر دو دن بحث مباحثہ ہونا چاہیے اور ہر رکن یہاں بولیں گا تو حکومت کے سامنے کچھ آجائیگی۔ یہاں چوہدری بھائی کو اسلام آباد میں گندگی کا احساس ہے یا پانی کا مسئلہ ہے یہاں پورا ملک میں گند جاری ہے طارق بھائی اس کو سنبھالنا ہوگا۔ ہم نے یہاں نمبرنگ نہیں بنانی، نہ ایک دوسرے کو بُرا بلا کہنا ہے بلکہ ان مسائل پر بحث ومباحثہ کرنا ہے جب سب بولیں گے
توشاید درمیان میں کوئی راستہ نکل آئے گا۔ دریں اثناء پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے 27ستمبر پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیاست میں احتجاج سیاسی کارکنوں کا حق ہوتا ہے، جب انصاف نہیں ہوگا، عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں ہوگی، پارلیمنٹ خودمختار نہیں ہوگی پھر تو سیاسی لوگ احتجاج کرتے ہیں۔ہماری ہر اس کام میں رضا مندی شامل ہے جو ظلم، جبر، غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف ہو ہم اس میں شامل ہوں گے۔ پیپلز پارٹی کے رابطے سے متعلق سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی مہربانی، جب سیاسی لوگ ملتے ہیں تو سیاسی باتیں ہوتی ہیں۔ ایک اچھا موقع ہوتا ہے جب پارلیمنٹ کا اجلاس بُلا لیا جاتا ہے۔نوید قمر کی مہربانی وہ آئیں تھے انہوں نے کہا کہ ہم ملیں گے اور ہم نے بالکل کہاں ملیں گے۔ رانا ثناء اللہ، چوہدری صاحب سے ہمارے رفاقت کے رشتے ہیں جب ہم ملتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہورہا ہے۔ رفاقت سے بھی بات آگے بڑھے گی جب سیاسی لوگ ملتے تو بات تو کرینگے۔بات مذاکرات کی ہوگی، جاری ٹینشن کو ختم کرنے، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہوری پاکستان کی تشکیل کی بات ہوگی۔ سپریم کورٹ کے عمران خان سے متعلق فیصلے کے سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مجھے ابھی کسی نے بتایا۔ عمران خان ہو یا کوئی بھی انسان ہو جو جیل میں اُس کے بنیادی حقوق ہوتے ہیں اور اگر آپ اس پر پابندی لگاتے ہی پھرتولوگ غصہ کرینگے۔ عمران خان پاکستان کا سب سے بڑا پاپولر لیڈر ہے، کروڑوں لوگ اس کے فالوورز ہیں ان پر پابندیاں لگانا دُکھ اور افسوس کی بات ہے اور ان قدغنوں کو فوری ختم ہونا چاہیے۔ مزید برآں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے قومی اسمبلی اپوزیشن چیمبر میں وفاقی وزراء رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری میں ملاقات کی۔ وفاقی وزراء نے قائدِ حزبِ اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔اس موقع ترجمان تحریک تحفظ آئین حسین احمد یوسفزئی بھی موجود تھے۔ملاقات میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر و الیکشن کمیشن کی تعیناتی پر گفتگو،، موجودہ سیاسی صورتحال اور باہمی سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران باہمی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاقِ رائے کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں