بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے، وہاں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں، بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے، طارق فضل چوہدری

41

اسلام آباد .جمعیت علما اسلام نے ضم شدہ اضلاع فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات نہ بڑھائی جائیں۔منگل کو سینیٹ اجلاس کے آغاز پر فاٹا اضلاع میں ٹیکسوں کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی جس میں مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ فاٹا کے لوگوں کی مشکلات نہ بڑھائی جائیں،حکومتی اراکین کہتے ہیں ٹیکس استثنیٰ کی چھوٹ کا غلط استعمال کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر سوالات وجوابات کے کتابچے نہ چھپنے کی وجہ سے وقفہ سوالات کو موخر کیا گیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے جے یوآئی کے سینیٹر مولاناعطا الرحمان نے وفاقی بجٹ میں سابقہ فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکسوں سے استثنیٰ واپس لینے کے معاملے پر توجہ دلا نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان اضلاع کے لیے سو ارب روپے کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوا اور نہ ہی فنڈز دیے گئے۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے میں جو کمیٹی تھی اس میں فاٹا پاٹا کے لوگ بھی شامل تھے، خیبرپختونخواہ چیمبرآف کامرس بھی مشاورت میں شامل تھا،اس معاملے میں دیگر چیمبرز نے سختی سے مخالفت کی تھی۔سینٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں جہاں پہلے ٹیکس نہیں وہاں بھی لگایا گیا ہے، عوام کو جو انگریز دور میں مراعات حاصل تھیں وہ بھی واپس لے لی گئی ہیں۔ وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں آپریشن کا کسی کو شوق نہیں ہے، وہاں روزانہ شہادتیں ہورہی ہیں، بی ایل اے اور دہشتگردوں کو بھارت وسائل مہیا کررہا ہے۔پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ روزانہ ہماری سڑکیں بند ہوتی ہیں معیشت تباہ ہو چکی،10 روز سے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال رہی ہے،ایران کی سڑکیں کھلی ہیں مگر ہماری بند کی جاتی ہیں۔ایوان نے معیار وقت آرڈیننس 1943میں مزید ترمیم کا بل 2026، اور سول سرونٹس ایکٹ 1973میں ترمیم کا بل منظورکرلیا جبکہ پی ٹی آئی نے بل کی مخالفت نہیں کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں