واشنگٹن /تہران:ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب یداللہ جوانی نے کہا ہے: جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق ہونا چاہیے اور آبنائے ہرمز اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ ینگ جرنلسٹس کلب کو دئیے گئے انٹرویو میں یداللہ جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس پر نافذ انتظامات کبھی بھی جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائیں گے۔پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی کئی ماہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے ہاتھ سے نکال لیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔تاہم انھوں نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان ایک آبی گزر گاہ کے بارے میں جو بات اس وقت زیرِ بحث ہے، وہ صرف جنگ کے خاتمے اور اس کے حتمی طور پر ختم ہونے کے بعد کیلئے ہے۔دریں اثناء مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ بندی کی 60 روزہ میعاد ختم ہونے پر پالیسی بیان جاری کردیا۔فوکس نیوز کے صحافی ٹری ینگسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر عمان نے ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی تو امریکا عمان پر شدید بمباری کرسکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر عمان راستے میں آیا تو امریکا اسے بُری طرح بمباری کا نشانہ بنائے گا۔ یہ دھمکی خلیجی ریاست عمان کے لیے خاص طور پر غیر معمولی ہے کیونکہ مسقط خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں اور ثالثی کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔امریکی صدر نے ایران سے ایک بار پھر ہتھیار ڈال کر امن کی علامت سفید جھنڈا لہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت اچھے پوکر کھلاڑی ہیں تاہم ان کے بقول ایران کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے معاملے میں کوئی مقررہ ٹائم ٹیبل نہیں اور وہ جلد بازی میں بھی نہیں ہیں البتہ بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ایران جنگ میں پیٹریاٹ میزائل اور ٹوما ہاکس جیسے جدید ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ ختم ہوجانے کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کے صرف مونگ پھلی کے دانے جتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے
۔ادھرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کو کسی بھی طریقے، شکل یا صورت میں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔امریکی صدر نے اس مؤقف کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکا کا بنیادی مقصد ہے۔ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔دریں اثناء ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعات کے حل کے لیے کسی نئے ثالث کی ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ امریکی حکومت کا طرزِ عمل اور اس کی پالیسی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کوششیں کر رہے ہیں اور اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔بقائی کے مطابق بعض یورپی ممالک کی جانب سے بھی دوطرفہ رابطوں کے دوران اپنی رائے کا اظہار اور اچھی خدمات فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کرنا فطری بات ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی نیا ثالث سامنے آگیا ہے یا اسے باضابطہ طور پر قبول کرلیا گیا ہے۔ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی چیلنج ثالثی کا معاملہ نہیں۔ ان کے بقول اصل مسئلہ امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر، غلط اندازے اور ایسی پالیسیوں پر اصرار ہے
جنہیں ایران کے مطابق ماضی میں کئی مرتبہ ناکام ثابت کیا جاچکا ہے۔اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری آمدورفت کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے پر مذاکرات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود سکیورٹی پیچیدگیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بحری راستے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے میں وقت لگ رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں، متعدد فریقوں کی موجودگی اور بعض رکاوٹیں پیدا کرنے والے عناصر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز، خطے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والی عدم تحفظ کی صورتحال امریکی اور اسرائیلی غیر قانونی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔بقائی کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان زیر غور طریقہ کار کا مقصد دونوں ساحلی ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایسا طریقہ کار تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ایران اور عمان کے خودمختار حقوق کے تحفظ کے ساتھ تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو بھی یقینی بنایا جائے۔بقائی نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کے باوجود ایران اور عمان کے درمیان مشترکہ بیان کو حتمی شکل دینے اور باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے محفوظ بحری نظام قائم کرنے پر سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے اور عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس راستے سے تجارتی اور توانائی کی ترسیل کی صورتحال پر عالمی منڈیوں کی بھی گہری نظر ہے











