ؓکوئٹہ :)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمن مینگل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 14اگست محض ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ اس فکری عہد کی یاد دہانی ہے جس کے تحت برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی سیاسی، تہذیبی اور اجتماعی شناخت کے تحفظ کے لیے ایک آزاد مملکت کے قیام کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کا وجود کسی وقتی سیاسی مصلحت کا نتیجہ نہیں تھا؛ اس کے پسِ پشت ایک واضح نظریاتی تصور، ایک اجتماعی جدوجہد اور ایک ایسی قربانیوں بھری تاریخ موجود ہے جس نے آزادی کو محض جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بنا دیا۔پاکستان کی نظریاتی اساس ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ ریاست کی مضبوطی صرف سرحدوں کی حفاظت سے نہیں، بلکہ انصاف، آئین کی بالادستی، شہری مساوات، قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کے استحکام سے ہوتی ہے۔ آزادی کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ ریاست اپنے ہر شہری کے لیے تحفظ، وقار اور آگے بڑھنے کے مساوی امکانات پیدا کرے اور شہری بھی ریاست کے استحکام کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
میر شفیق الرحمن مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے یہ ذمہ داری مزید گہری ہو جاتی ہے۔ یہ خطہ پاکستان کی جغرافیائی ساخت میں محض ایک صوبہ نہیں بلکہ ملک کی سلامتی، علاقائی رابطے، ساحلی اہمیت اور قومی وحدت کے اعتبار سے ایک بنیادی ستون ہے۔ بلوچستان کو پاکستان کا مضبوط قلعہ بنانا کسی نعرے کا عنوان نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی مشن ہے؛ ایسا مشن جس کی بنیاد محض تصادم نہیں بلکہ اسلامی شناخت، امن، تعلیم و تربیت، فکر و نظریہ، اصولی روایات کی بالادستی، معاشی مواقع، سیاسی شمولیت اور قومی اعتماد پر ہونی چاہیے۔بلوچستان کی تاریخ میں فکری تحریک اور ایسے بے شمار خاندان اور افراد آج بھی موجود ہیں جنہوں نے ریاست اور معاشرے کے استحکام کی قیمت اپنی جانوں، اپنے سکون اور اپنے مستقبل سے ادا کی۔ شہادتوں کا ذکر صرف جذبات ابھارنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے؛ ان قربانیوں کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم اس سوال کا جواب دیں کہ جن مقاصد کے لیے جانیں دی گئیں کیا ہماری اجتماعی سمت ان مقاصد سے ہم آہنگ ہے؟ اگر قربانی کو قومی شعور میں تبدیل نہ کیا جائے تو تاریخ محض واقعات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔بلوچستان کے مستقبل کا فیصلہ ماضی کے زخموں کو دہرانے سے نہیں بلکہ ان سے سبق حاصل کرنے سے ہوگا۔ ہمیں ایسی سیاست اور اجتماعی فکر درکار ہے جو بلوچ, براہوئی شناخت کو پاکستان کی قومی شناخت سے متصادم سمجھنے کے بجائے اسے پاکستان کے وفاقی اور کثیرالجہتی تشخص کا حصہ سمجھے۔ بلوچستان کی مضبوطی پاکستان کی مضبوطی سے جدا نہیں
اور پاکستان کی مضبوطی بلوچستان کو نظرانداز کرکے مکمل نہیں ہو سکتی۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آزادی کو صرف جشن کے طور پر نہ منائیں عہد کہ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے، محرومی کو تشدد کی طرف دھکیلنے کے بجائے انصاف اور آئینی راستے سے حل کریں گے، نوجوان نسل کو مایوسی کے بجائے علم اور مواقع دیں گے، اور بلوچستان کی سرزمین کو خوف اور بداعتمادی کے بجائے امن، ترقی اور قومی اعتماد کی علامت بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔میر شفیق الرحمن مینگل نے مزید کہا کہ ہم ان تمام شہدا اور قربانی دینے والے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے امن، سلامتی اور قومی وحدت کی قیمت ادا کی۔ ان کی قربانی کا بہترین خراج یہ نہیں کہ ہم صرف ان کے نام دہرائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں ریاست فرد کے لیے قابلِ اعتماد، اور قومی وحدت کسی جبر نہیں بلکہ مشترکہ مستقبل کے یقین پر قائم ہو۔14اگست ہمیں ماضی پر فخر کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے۔ آج ہمارا عہد یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کی نظریاتی بنیاد، آئینی وحدت اور جغرافیائی سالمیت کو مضبوط کرتے ہوئے بلوچستان کو امن، ترقی، شعور اور قومی استحکام کی راہ پر گامزن کرینگے، یہ سفر مختصر نہیں؛ یہ جہدِ مسلسل ہے، اور اس کی کامیابی نعروں سے نہیں بلکہ فکری کردار، قربانی، تدبر اور مستقل مزاجی سے ممکن ہ
ہماری قربانیاں کسی تصادم کیلئے نہیں، ایک پرامن، متحد اور ناقابل تسخیر پاکستان کیلئے ہیں، بلوچستان پاکستان کا مضبوط قلعہ بن کر رہے گا، شفیق الرحمن مینگل
28












