کوئٹہ :بلوچستان ہائیکورٹ میں یومِ آزادی کے موقع پر پروقار پرچم کشائی کی تقریب، چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے قومی پرچم لہرایا۔تفصیلا ت کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، معزز ججز، افسران، عدالتی عملے، وکلا تنظیموں کے عہدیداران، بار نمائندگان اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ آج قوم وطن کی آزادی کا 79واں یومِ آزادی منا رہی ہے۔ 14اگست ایک تاریخی دن، ایک نظریے اور تجدیدِ عہد کا نام ہے۔ اللہ تعالی نے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے، جس کی قدر اور حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ قوموں کی اصل قوت اتحاد و اتفاق میں ہے۔ لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے نہیں بلکہ ناانصافی کے خاتمے کے لیے آتے ہیں، اس لیے انصاف کو صرف عدالتوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے
بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ والدین، اولاد، رشتہ داروں، ہمسایوں اور ماتحتوں کے ساتھ انصاف کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں انصاف کے اصولوں پر چلنے کا عہد کریں تو معاشرے کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ بہن بھائی جائیداد میں ایک دوسرے کا حق تسلیم کریں تو مقدمہ بازی میں کمی آسکتی ہے، جبکہ افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ انصاف کریں تو وہ اپنے فرائض بہتر انداز میں انجام دے سکیں گے۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ اپنی حالت بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو کیسا ملک اور معاشرہ دے کر جائیں گے۔جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کے باعث دنیا کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔ سی پیک نے بھی دنیا پر پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت واضح کر دی ہے، جبکہ شاہراہِ ریشم تقریبا پانچ ہزار سال سے اس خطے کو دنیا کی مختلف تہذیبوں سے جوڑتی رہی ہے۔ دشمنوں کے منفی پروپیگنڈے سے پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک اہمیت کم نہیں کی جا سکتی۔تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، استحکام، خوشحالی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان کی جغرافیائی و اسٹریٹیجک اہمیت کم نہیں کی جا سکتی، منفی پروپیگنڈا بے اثر ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ
36












