بندوق کے زورپرروایات پامال نہیں ہونے دیں گے،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

32

کوئٹہ:امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کوئٹہ دھرنے کے دوسرے دن اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج سے اس دھرنے کوختم کرکے ڈویژنزکی سطح پرمنتقل کریں گے۔بلوچستان کے 11ڈویژن مقامات پردھرنادیں گے پھراضلاع وتحصیل جاونگا۔یکم ستمبر4بجے کوئٹہ ڈویژن کادھرناہوگا۔3ستمبرتاجروں وعوام کے تعاون سے مکمل شٹرڈاون ہڑتال جینے وعزت اورامن کیلئے ہوگا۔بدامنی کے علاقوں میں دھرناکیمپس لگائیں گے۔ہردینی وعصری تعلیمی ادارے جاکر ظلم وجبرکے خلاف طلبا ونوجوانوں اورعلما کومتحرک کرونگا۔خواتین وطالبات بھی اس جدوجہد میں ساتھ دیں گے۔7ستمبرختم نبوت کے حوالے سے علما کاسیمینارمنعقد کریں گے۔ایک لاکھ لوگ کوئٹہ میں جمع کرکے بلوچستان کامقدمہ لڑیں گے۔جمہوری مذاہمت کریں گے۔پہاڑوں پرجانانہیں جمہوری مذاہمت پارلیمنٹ کے اندروباہرجدوجہدکریں گے۔ہماراسب سے بڑامطالبہ اسلام آباد سے امن اورعزت ہے۔بندوق کے زورپرروایات پامال نہیں ہونے دیں گے۔اسمبلی کے اندروباہر ہرظالم کے خلاف بات کرونگا۔بارڈرزکھول دیں یامتبادل روزگاردیں۔دوسرے دن دھرنے میں علمائے کرام،طلبا مزدوروکلا وصحافیوں سمیت خواتین وبچوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔دھرنے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مابت خان کاکا،جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے مولاناعبدالقادرلونی،نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے احمدجان خان نے وفودکے ہمراہ شرکت وخطاب کیا۔اس موقع پرجماعت اسلامی صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امرا زاہداختربلوچ مولانا عبدالکبیرشاکر ڈاکٹرعطا الرحمان، مولانا محمد عارف دمڑ،ڈاکٹرشکیل روشان، حافظ مطیع الرحمان مینگل،ہیومن رائٹس کے رہنماعبدالقیوم کاکڑ،این، ایل ایف کے ارشدیوسفزئی، لورالائی کے امیرعبدالحمیدناصر،چمن کے امیرمولاناسعداللہ،زیارت کے امیرمولانامحمدشریف ودیگرنے بھی خطاب کیا۔صوبائی امیر ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان ملک بھراوربلوچستان میں جاری ظلم و جبر کے خلاف میدان میں نکلے ہیں۔کوئٹہ کے میڈیا کو جماعت اسلامی کے پروگرام کی کوریج نہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔جماعت اسلامی غلام میڈیا کی کوریج کی محتاج نہیں۔جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا کے نوجوان غلام ودباوکے شکارتمام چینلز کو شکست دیگی۔میڈیا کوریج نہ بھی ملے، جماعت اسلامی اپنی آواز عوام تک پہنچاتی رہے گی۔میڈیا مالکان بلوچستان کو صوبہ نہیں سمجھتیبلوچستان کا میڈیا قید ہے، یہاں سیاسی آزادی واظہارِ رائے کی آزادی نہیں۔بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پرمقتدرقوتوں و حکمرانوں سے جواب طلب کیا جائے بلوچستان میں شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔حکومت عوام کو روزگار،تعلیم، علاج اور امن فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔روزگار، تعلیم، علاج اور امن نہیں دے سکتے تو یہ ادارے کس مرض کی دوا ہیں۔بلوچستان کے لاکھوں بچے منشیات میں مبتلا ہیں بلوچستان میں منشیات کے پھیلا کو روکنے کیلئے حکومت کہاں ہے۔منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی،۔بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل منشیات سے تباہ کیا جا رہا ہے۔منشیات کے خلاف مثر کارروائی اور نوجوانوں کے تحفظ کیلئے حکومت عملی اقدامات کرے۔
ہم کسی نواب، چوہدری، وڈیرے یا سردار کی غلامی نہیں کریں گے۔ہم اللہ کے سوا کسی کی بڑائی تسلیم نہیں کرتے۔غلامی کے خلاف ہمارے پیغمبر ﷺ نے بھی جدوجہد کی۔سیاسی اور جمہوری آزادی عوام کا بنیادی حق ہے۔بندوق کے زور پر قوموں کو فتح نہیں کیا جاسکتا۔جب تک قوم ساتھ نہ ہو کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔جنگ جیتنے کیلئے صرف بندوق،گولی اور گالی کافی نہیں۔غریب کیلئے سپریم کورٹ دن 12 بجے بند جبکہ سرمایہ دار کیلئے رات 12 بجے کھلی رہتی ہے۔لاپتہ افراد کی ماں کو انصاف کب ملے گا۔کیا لاپتہ بچوں کی ماں کو انصاف مل سکا ہے۔عدالتوں کے ججز مراعات بڑی تنخواہیں حاصل کرتے ہیں، عام آدمی کو انصاف نہیں ملتاغریب اور عام شہری کیلئے انصاف کا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے۔پورا نظام گل سڑ چکا اور ناکام ہوچکا ہیبیوروکریسی بڑے محلات اور بڑی گاڑیوں میں مراعات لے رہی ہے۔بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے قوم کی کیا خدمت کی۔حکمرانوں نے پاکستان کو کھانے اور قبرستان بنانے کیلئے استعمال کیا۔کیا ممالک اس طرح چلتے ہیں۔پاکستان عوام کا نام ہے، حکمران اشرافیہ کا نہیں۔پاکستان عوام کا نام ہے جرنیلوں یا سیاسی شخصیات کا نہیں،عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا موجودہ نظام کی ناکامی ہے۔اگر بلوچستان میں نظام مصطفی ہوتا تواپنوں وغیروں کی دہشت گردی نہ ہوتی۔لا الہ الا اللہ کا نظام انصاف کا نظام ہے۔اسلامی نظام میں ہر شہری کی جان و مال اور عزت محفوظ ہوتی ہے۔موجودہ نظام نے بلوچستان کے بچوں اور بچیوں کو مایوس کردیا ہے۔موجودہ نظام میں عوام کو مرنے کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔غربت اور محتاجی انسان کو انتہائی مایوسی کی طرف لے جاتی ہے۔اگر گھر میں بچوں کیلئے کھانا نہ ہو تو عوام حکمرانوں سے سوال ضرور کریں گے۔عوام کو روٹی، روزگار، تعلیم، صحت اور امن فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بلوچستان کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔1971 میں جب قوم ساتھ نہیں تھی تو ملک کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔قوم کی حمایت کے بغیر کوئی حکومت یا ادارہ کامیاب نہیں ہوسکتا،اسما جتک کے والد اور بھائی کے مبینہ قاتلوں کی گرفتاری تک آواز بلند کرتے رہیں گے۔اسما جتک کو جماعت اسلامی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔چیف آف جھالاوان کے گھر سے اسما جتک کے والد اور بھائی کے مبینہ قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتاہوں۔ظلم، جبر، بدامنی اور ناانصافی کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔بلوچستان کے عوام کو سیاسی آزادی، امن اور انصاف فراہم کیا جائے،عوام کے مسائل حل نہ ہوئے تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکاجماعت دھرنے کے بائیکاٹ کی مذمت کرتے ہیں۔کابینہ میڈیا،پارلیمنٹ،عدلیہ سب کنٹرول میں ہے۔ایف سی چیک پوسٹیں،ہماری توہین وتذلیل کیلئے ہیں۔ہمیں غلام سمجھاجارہاہے غلامی وبدماشی کے خلاف جمہوری مذاہمت جاری رہے گی۔کسی جج،جرنیل،خان سردارکی غلامی نہیں کریں گے۔بلوچستان قیدخانہ بناہواہے روزگارنہیں منشیات سرعام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں