بلوچستان کے حالات پر خاموش نہیں رہیں گے، محمود خان اچکزئی

32

اسلام آباد۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بلوچستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے فوری مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور آئین کی بالادستی ناگزیر ہے۔خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں گزشتہ عرصے کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مجموعی صورتحال پر تحریک کے اکابرین نے تفصیلی غور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لاکھوں افراد احتجاج کر رہے ہیں اور حالات تشویشناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں
۔محمود خان اچکزئی نے الزام عائد کیا کہ زیارت کے قریب بعض سکیورٹی اہلکاروں کو محدود وسائل اور کم اسلحہ فراہم کیا گیا اور بعد ازاں ان پر حملے ہوئے، تاہم انہیں بروقت مدد فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور کشمیر کے واقعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور تحریک ان معاملات پر خاموش نہیں رہے گی۔ ان کے بقول، پاکستان کو ایک مضبوط اور پائیدار وفاق کے طور پر چلانے کے لیے تمام اکائیوں کے عوام کے حقوق اور وسائل پر ان کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے اور حکمران عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔اس موقع پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ ملک میں سیاسی اور جمہوری ماحول کو درپیش مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات تشویشناک ہیں اور وہاں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی، ماہ رنگ بلوچ، ایمان مزاری اور علی وزیر سمیت مختلف سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کیا جائے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیا جائے، آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جامع قومی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں