اسلام آباد :قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے وزیراعظم شہباز شریف جب ایوان میں پہنچے تو انہوں نے اپوزیشن ارکان سے مصافحہ کیا۔شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے بھی مصافحہ کیا۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان خوشگوار اور شکوہ جواب شکوہ کے انداز میں دلچسپ مکالمہ ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ (مولانا فضل الرحمان) کے ساتھ احترام کارشتہ ہے، آپ ہمیشہ شفقت سے پیش آئے ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ مولانافضل الرحمان کے ساتھ جو بھی باتیں تنہائی میں ہوئیں، وہ راز ہیں اور وہ قیامت تک کسی سے ڈسکس نہیں کروں گا۔ وہ باتیں قبر میں میرے ساتھ جائیں گی۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے جوابا ًکہا کہ وزیراعظم نے جو محبت کا اظہار کیا، میں اس کو ویلکم کرتا ہوں اور اس کے ساتھ انہیں اجازت دیتا ہوں کہ راز کی باتیں ایوان میں سب کے سامنے بتا دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مولانا صاحب کا شکریہ لیکن آفر اس لیے قبول نہیں کروں گا کہ اگر وہ باتیں کیں تو پھر بات دور تک چلی جائے گی اور معاملات اتنے دور چلے جائیں گے کہ واپس نہیں آئیں گے۔وزیر اعظم نے لطیف کھوسہ اور نور عالم خان سے بھی مصافحہ کیا۔بلاول بھٹو اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم شہباز شریف سے ملنے گئے، وزیر اعظم اور بلاول بھٹو نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ دریں اثنا جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھ سے رابطہ کیا، انہوں نے اپنا آئندہ لائحہ عمل دینا تھا وہ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ خط موصول ہوا، حکومت کو وہ خط بھجوایا ہے، جس سے اب تک جواب نہیں ملا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ کو دیکھنا چاہیے، مظاہرین کی تقریر کی بنیاد پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفر آباد کی طرف مارچ موخر کیا ہے۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردِعمل بطور وزیرِ دفاع نہیں کرنی چاہیے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحق ڈار کے سپرد کر رکھی ہے، خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا، حکومتی پارٹی ایسے جلسے کر کے دکھا دے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ایوان میں بہت سی جذباتی باتیں ہوئی ہیں، یہ وقت تحمل و برداشت کا ہے، حکومت کا ردِعمل جذباتی ہوتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوتا۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ
29














