کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کراچی میں پارٹی سربراہ سردار اختر جان مینگل کی رہائشگاہ پر سادہ وردی میں ملبوس فورس کے چھاپے اور ان کے منیجر سمیت 13 افراد کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کے حکمرانوں نے بلوچستان کی طرح سندھ میں یہ گھناؤنی حرکتیں شروع کردی ہیں انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے بصورت دیگر ہم احتجاجی تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ عدالت سے رجوع کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، میر غلام نبی مری، موسیٰ جان بلوچ، صمند بلوچ، میر وحید لہڑی، فریدہ بلوچ ایڈووکیٹ، ثانیہ بلوچ، شمائلہ اسماعیل، میر مقبول احمد لہڑی، جاوید بلوچ، چیئرمین واحد بلوچ، سابق رکن صوبائی اسمبلی ٹائٹس جانسن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی میں سادہ وردی میں ملبوس اہلکاروں نے پارٹی سربراہ سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر جان مینگل کی رہائشگاہ پر صبح سویرے چھاپہ مار کر وہاں پر موجود ان کے منیجر سمیت 13 ملازمین کو گرفتار کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کارروائیاں پارٹی سربراہ اور جماعت کی جانب سے سخت بیانیہ اپنانے کا پیشہ خیمہ اور ہمیں دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے گزشتہ 75 سالوں سے فیڈریشن کے فیڈرک یونٹ بلوچستان کو کالونی کے طور پر چلاکر لوگوں کا استحصال کیا جارہا ہے ہماری جماعت نے ہمیشہ ایوان سمیت ہر فورم پر بلوچستان کے وسائل پر عوام کی دسترس اور ان کے حقوق کے حصول کیلئے آواز اٹھائی ہے اسی لئے مختلف ادوار میں ہمارے خلاف ملک دشمن عناصر جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے
کبھی ایف آئی اے کے ذریعے تو کبھی دیگر اداروں کے ذریعے پارٹی سربراہ کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزیز و اقارب، اہلخانہ کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے جاتے ہیں جس کو ہم انتقامی کارروائی اور جمہوریت کے خلاف سخت غیر قانونی اقدامات سمجھتے ہیں اسی طرح 2006ء میں پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا تھا جس کا مقصد پارٹی سربراہ اور جماعت کو دباؤ میں ڈال کر انہیں اپنے سخت گیر بیانیے سے ہٹانا ہے جو نا ممکن ہے کیونکہ ہماری جماعت عوام کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے اس لئے ہمارے خلاف جمہوری اور قانونی اصولوں کو پس پشت ڈال کر انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہے طاقتور قوتیں جماعت پر سیاسی اور جمہوری جدوجہد میں قدغن لگانے کی کوششیں کررہے ہیں جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ہماری حقوق کے حصول اور عوام کے مسائل کے حل کیلئے آئینی، جمہوری، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی انہوں نے کہا کہ فارم 47کے حکمران پہلے بلوچستان میں جماعت کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہے تھے اب سیاسی جمہوری جماعت کے دعویدار پیپلزپارٹی کے فارم 47 کے حکمران اسی نقش قدم پر چل رہے ہیں ہم ان کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کے ساتھ ساتھ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے طاقتور قوتوں اور سیاسی جماعتوں کے خلاف عوام کی نفرت میں اضافہ ہوگا کیونکہ ہمیں جمہوری انداز میں سیاست اور کاروبار کی اجازت نہیں دی جارہی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ان مسائل کو ہماری جماعت ہر فورم پر سمیت تحریک تحفظ آئین پاکستان کے فورم پر بھی ا ٹھائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنے آپ کو جمہوری جماعت کہتی ہے انہیں ہم نے صورتحال سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے جواز پیش کیا ہے کہ ہمارے علم میں نہیں ہے جب ان کے علم میں یہ بات آگئی پھر انہوں نے اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
سردار اختر جان مینگل کی رہائشگاہ پر چھاپے منیجر سمیت 13 افراد کی گرفتاری قابل مذمت ہے، ساجد ترین
43














