اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)کا پہلا مرحلہ پاکستان کو توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بحران سے نکالنے میں سنگِ میل ثابت ہوا ،سی پیک 2.0 کے تحت ہماری توجہ انفراسٹرکچر سے صنعت کاری اور حکومتی سطح کے روابط سے کاروباری سطح کی شراکت داری کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے اکنامک افیئرز پریس کے سینئر ایڈوائزر مسٹر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں پاکستان آنے والے اعلی سطحی وفد کے ساتھ سی پیک سیکرٹریٹ، وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی میں منعقدہ اہم اجلاس کے دوران کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک فیز ون نے پاکستان کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، اب سی پیک فیز ٹو کے تحت ملک میں صنعتی، زرعی اور تکنیکی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے قومی معاشی ایجنڈے اڑان پاکستان کے تحت پاکستان صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے، اس مقصد کے لیے نیشنل سینٹر آف نیو مینوفیکچرنگ کے ذریعے چین کے جدت، آٹومیشن اور روبوٹکس کے شعبوں میں حاصل کردہ تجربات اور مہارت سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا معاشی چیلنج کمزور برآمدات ہیں، چین سالانہ تقریبا 2.6 ٹریلین ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے جبکہ پاکستان کی چین کو برآمدات اس وقت تقریباً 3ارب ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سی پیک فیز ون نے پاکستان کے انرجی خسارے کو ختم کرنے میں مدد دی اسی طرح سی پیک فیز ٹو کا ہدف ملک کے ایکسپورٹ خسارے کا خاتمہ ہے۔وفاقی وزیر نے زراعت، صنعت اور کان کنی کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے اداروں کے درمیان حالیہ معاہدوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے اور پاکستان میں معاشی خوشحالی کے نئے راستے کھولنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک 2.0 کے تحت بی ٹو بی تعاون، ٹیکنالوجی منتقلی، صنعتی جدید کاری، زرعی ترقی اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی پاک چین معاشی تعاون میں فعال طور پر شامل کیا جائے گا۔چین کے اکنامک افیئرز پریس کے سینئر ایڈوائزر مسٹر سن ڈونگ شینگ نے سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابیوں کو سراہا اور صنعت، زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان روابط اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس میں سی پیک 2.0 کے تحت صنعتی و زرعی جدید کاری، ٹیکنالوجی، B2B روابط اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور باے تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا واضح ہدف سی پیک 2.0 کے پانچ اقتصادی راہداریوں کو اڑان پاکستان کے 5Es فریم ورک کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ ملک کو جدید صنعتی، زرعی اور تکنیکی معیشت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے کو ملک کی معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کا اہم ذریعہ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
سی پیک کا دوسرا مرحلہ معاشی ترقی، برآمدات اور روزگار کا نیا باب کھولے گا: احسن اقبال
26












