اسلام آباد(روزنامہ تعمیر بلوچستان) پاکستان کے معدنی شعبے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں 22 سال قبل طے پانے والا معاہدہ بالآخر عملی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بلوچستان میں واقع بیرائٹ پراجیکٹ سے بیرائٹ، سیسہ اور جست (زنک) کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیا گیا ہے، جسے ملکی معدنی صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے مطابق کمپنی نے سال 2004 میں اس منصوبے کے لیے لیز حاصل کی تھی۔ طویل عرصے پر محیط ریسرچ، ایکسپلوریشن اور تیاری کے مراحل کے بعد اب جا کر اس منصوبے سے پیداوار شروع ہوئی ہے، جس کے تحت بیرائٹ سمیت اہم صنعتی خام دھاتیں بڑے پیمانے پر نکالی جائیں گی۔
کمپنی کے مطابق نومبر 2025 میں معاہدے میں ایک اہم ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت بلوچستان حکومت کو بھی اس منصوبے میں حصہ دار بنایا گیا، تاکہ مقامی سطح پر معاشی فوائد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔پراجیکٹ کی تکنیکی نگرانی اور انتظامی معاونت جرمنی کی معروف کمپنی (جی ایم ٹی گروپ)کے سپرد کی گئی ہے، جو کان کنی اور معدنی منصوبوں کی کنسلٹنسی میں عالمی سطح پر کام کرتی ہے۔پی پی ایل نے بتایا کہ اس منصوبے سے بلوچستان کے اضلاع خضدار اور نوکنڈی میں نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ علاقے میں بیرائٹ، سیسہ اور جست کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جنہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی مکمل پیداوار اور برآمدات شروع ہونے کے بعد پاکستان کی معدنی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے، جبکہ مقامی انفراسٹرکچر اور علاقائی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔پی پی ایل نے اس پیش رفت کو پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے توانائی اور صنعتی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گی
بلوچستان کے بیرائٹ پراجیکٹ سے معدنی پیداوار کا آغاز، 22 سالہ معاہدہ ثمر آور ہوگیا
35















