پی پی ایل کی خشکی اور سمند ر کے کنارے پر نئے ہائیڈرو کاربن پلے کی دریافت

32

کراچی / کوئٹہ:پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)کے لئے قابلِ فخر ہے کہ اس نے ضلع سجاول، سندھ میں واقع اپنے آپریٹڈسرانی بلاک کے دریافتی کنوئیں ڈولفن سے گیس کی ایک منفرد اوراہم دریافت کی ہے۔ یہ جراسک دورکی لوئر انڈس بیسن کی چلتن فارمیشن سے ہائیڈروکاربن کی سب سے پہلی دریافت ہے۔ X-1یہ اہم سنگ ِ میل عزت مآب وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن کی عکاسی کرتا ہے، جسے وفاقی وزیر پیٹرولئیم جناب علی پرویز ملک کی موئثر قیادت میں عملی جامہ پہنایا گیا، جس کے نتیجے میں غیر دریافت شدہ اور دشوار ترین سرحد ی علاقوں میں دریافتی سرگرمیاں ممکن ہوئی ہیں۔ اس دریافت کے ساتھ پی پی ایل نے ایک فعال پیٹرولیم نظام کی موجودگی کو ثابت کرتے ہوئے دلدلی زمینی علاقوں اور اس کے متعلقہ کم گہرائی والے سمندری علاقے(Shallow Offshore) میں ممکنہ نئی دریافتوں کے لئے سرحد کھول دی ہے، جس سے پاکستان کے کم گہرائی والے سمندری علاقوں کی دریافتی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔یہ علاقہ اپنی دشوار گزارجغرافیائی صوتحال کے باعث طویل عرصے سے دریافت کے لیے ناقابلِ رسائی تصور کیا جاتا رہا ہے۔
پی پی ایل پہلی دریافتی و پیداواری کمپنی ہے جس نے اس مشکل دلدلی خطے میں جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے خصوصی ٹرانزیشن آلات کامیابی سے استعمال کئے، جن کے ذریعے اہم 2ڈی اور 3 ڈی سائزمک ڈیٹا حاصل کیا۔یوں ایک غیر دریافت شد ہ سرحدی علاقے کو ثابت شدہ پیٹرولئیم پلے میں تبدیل کر دیا گیا۔ کی کھدائی کا آغاز 17 اپریل 2026 کو کیا گیا او رچلتن فارمیشن میں ہائیڈروکاربن کے امکانات کی جانچ کے لئے اسے 3,850میٹر ایم ڈی کی گہرائی تک کھودا گیا۔X-1 کنوئیں ڈولفن کھدائی کے نتائج اور حاصل کردہ وائر لائن لاگز کی بنیاد پر ہائیڈروکاربن پر مشتمل زون کی نشاندہی کی گئی۔جانچ کے دوران چلتن فارمیشن سے64 /32 انچ چوک سائزاور211 پی ایس آئی جی ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر پر1000 بی ٹی یو/ایس سی ایف حرارتی قدر کی حامل یومیہ 0.942 ایم ایم ایس سی ایف کی شرح سے اعلی درجیکی گیس حاصل ہوئی۔سیرانی بلاک میں پی پی ایل آپریٹر کی حیثیت سے 75 فیصد کاروباری شراکت کی حامل ہے جبکہ اس کی جوائنٹ وینچر گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کی شراکت25 فیصد ہے۔ اس کنوئیں کو کمپنی کے ماہرین کی صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے کھودا اور جانچا گیا، جس کے نتیجے میں چلتن لائم اسٹون میں ایک نئے ہائیڈروکاربن پلے کی دریافت ہوئی ہے۔منصوبے کے تمام مراحل کے دوران پاکستان نیوی کے گراں قدر تعاون کی شکر گزار ہے۔ X-1 پی پی ایل، ڈولفن ارضیاتی، جیو فزیکل اور انجینئرنگ ٹیسٹ ڈیٹا کے ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذخائر کی نوعیت ٹائیٹ ہے۔ تاہم، اس امر کی حتمی تصدیق کھدائی اورجانچ کے دوران حاصل کردہ ارضیاتی اورارضی طبعاتی (جی اینڈ جی) اور ریزروائر انجینئرنگ کے ڈیٹا کے مزید تفصیلی جائزے سے ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں