پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں،بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیر اعظم

29

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا ، ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی، افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے،خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ،پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں قابل تحسین ہیں ،بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا،تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرےگا،کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک کا 300 ارب روپے کا منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوجائےگا،پنجاب نے این ایف سی ایوارڈکی مد میں 150 ارب روپے بلوچستان کو دیئے ہیں ،باقی صوبوں نے بلوچستان کی ترقی کےلئے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے،بلوچستان کو لیپ ٹاپ اوروظائف کی تقسیم میں 10فیصد زائد کوٹہ دیا جارہا ہے، کچھی کینال منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا ،پاکستان کے مسائل کا حل شفاف حکومتی نظام میں مضمر ہے۔ وہ جمعہ کو یہاں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کررہے تھے ۔
تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال ، وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیرمملکت بلال اظہر کیانی سمیت دیگربھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد صحیح معنوں میں چاروں صوبوں کے لوگوں کا مسکن ہے، بلوچستان سے آئے ہوئے غیور محب وطن بیٹوں اور بیٹیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے،بلوچستان میں بسنے والے ہمارے بہادر بلوچ اور پختون بہن بھائیوں نے تخلیق پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا،1947میں بلوچستان کی کئی ریاستوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی،1948میں دیگر ریاستوں کے بلوچ پختون قبائلی رہنماں نے بھی آگے بڑھ کر قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت کو تسلیم کیا اور پاکستان کا حصہ بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان نے ملک کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے، بلوچستان کی قیادت نے ذاتی مفاد اور انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے کھلے دل سے وفاق کی حمایت کی ، بلوچستان آبادی کے لحاظ سے اگرچہ ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، دوسرے صوبوں اور خاص طور پر گنجان علاقوں میں جو وسائل تعلیم ، صحت اور خوشحالی کےلئے استعمال کرکے زیادہ آبادی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، بلوچستان کی صورتحال ا س حوالے سے مختلف ہے ، فاصلے شہروں ،دیہات اور قصبوں کے درمیان بہت زیادہ ہیں ، دور دراز علاقوں کی ترقی کےلئے طویل فاصلوں کے باعث وسائل نسبتا زیادہ چاہئیں ،2010میں این ایف سی ایوارڈ میں اس معاملے کو تسلیم کیا گیا اور باقی تین صوبوں بالخصوص پنجاب نے ملکر رضا کارانہ طور پر بلوچستان کا مالی حق 100فیصد بڑھانے کے مطالبے کو پورا کیا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، پنجاب نے 11 ارب روپے سالانہ دیئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی احسان نہیں تھا بلکہ بھائی چارے کی ایک عظیم مثال تھی ، دکھ سکھ بانٹنے کے جذبے کا مظاہرہ کیا گیا ، پنجاب 2010 سے اب تک 150 ارب روپے اس سلسلے میں فراہم کرچکا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کےلئے بے پناہ وسائل اور منصوبے دیئے گئے بعد میں آنے والی حکومتوں اور بالخصوص پی ڈی ایم کی حکومت میں اور اب بھی بلوچستان کے جائز مطالبے کو پورا کرنے کےلئے ان کے بجٹ سے زیادہ وسائل مہیا کئے گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں کسانوں کو کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا تھا ان کے اور بھی مسائل تھے جن کو حل کرنے کےلئے تقریبا 27 ہزار ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا،75 ارب روپے کے اس منصوبے میں 50ارب روپے وفاق نے فراہم کئے، اسی طرح کراچی سے چمن تک این 25 جسے خونی سڑک کہا جاتا تھا اور روزانہ حادثات ہوتے ہیں ، اس دیرینہ مطالبے کو پوراکرنے کےلئے گزشتہ برس تیل کی قیمت میں کمی کی مد میں جمع ہونے والی رقم سے کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک بنانے کا فیصلہ کیا
، 300ارب روپے کا یہ منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوگاتو اس خونی سڑک کو امن کی سڑک قرار دیا جائےگا۔وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرےگااگر ایک صوبہ زیادہ ترقی کرتا ہے اور باقی صوبے پیچھے رہ جاتے ہیں تو یہ ملکی ترقی نہیں ہوتی ، ترقی کی دوڑ میں چاروں صوبوں کی یکساں کاوشوں کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔وزیراعظم نے مستونگ کے سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت کواندوہنا ک سانحہ قرار دیتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور اہلخانہ کےلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ سیشن جج عبدالحکیم اور ان کے ساتھ ایک اہلکار نے جام شہادت نوش کیا ،انہوں نے کہا کہ ملک کی حفاظت کےلئے عوام کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر اور جوان قربانیاں دے رہے ہیں ، اب تک دہشتگردی کے خاتمے کی جنگ میں 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور وہ وسائل فراہم کررہا ہے اس میں اور بھی عوامل شامل ہیں ،18-2017میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا، ایک انتہائی منظم سازش کے ساتھ دہشت گردی دوبارہ لوٹ آئی ، دہشتگردی ہمارے لئے ایک چیلنج ہے ، ہم سب نے ملکر اس کا مقابلہ کرنا ہے، افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اس کے ساتھ ہماری 2 ہزار کلومیٹر مشترکہ سرحد ہے ، افغان رجیم کو ہم نے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ ہم ہمسائے ہیں اور ہم نے ملکر رہنا ہے ، خطے میں امن چاہتے ہیں تو وہاں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے، افغان عبوری حکومت ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کی حفاظت کےلئے کوشاں ہیں ،حالیہ دنوں میں اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عظیم کامیابیاں عطا کی ہیں، معرکہ حق میں بھارت کو چار دنوں میں شکست فاش ہوئی ،اسی طرح سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے خطے میں امن کی بحالی کےلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے اس سے دنیا میں پاکستان کو بہت عزت ملی ہے،خطے میں قیام امن کےلئے مثر سفارتکاری پردنیا پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ،یہ عزت اور وقار دشمن کو ہضم نہیں ہورہا، وقت آگیا ہے کہ ملک کو معاشی ترقی کی دوڑ میں آگے لے کر جائیں ، مواقع سے فائدہ اٹھا کر ہمیں چاروں صوبوں میں ترقی اور خوشحالی لانا ہوگی اس کےلئے ہمیں دن رات مل کر انتھک محنت کرنا پڑے گی ،جب چاروں صوبے اور 24کرو ڑ عوام ملکر کوشش کریں گے تو پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کرے گا اور ہماری عسکری اور سفارتی کامیابیاں مزید دوبالا ہوجائیں گی۔ورکشاپ میں سوال جواب کا سیشن بھی ہوا ، وزیراعظم نے شرکا کے سوالات کے مدلل جواب دیئے ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آرمیں بدعنوانی کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے کے جو وسائل خزا نے میں جمع ہونے چاہئیں ،وہ نہیں ہوتے جس کی وجہ سے غربت اور مسائل بڑھتے ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کےلئے ہمیں قرضوں پہ قرضے لینا پڑتے ہیں ۔پاکستان کے مسائل کا حل شفاف حکومتی نظام میں مضمر ہے
، اس کےلئے ہم نے ٹیم ورک کے طور پر کام کیا ہے اور گزشتہ سال سیلز ٹیکس اور دیگربالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 800 ارب روپے وصو ل کئے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑ ی رقم ہے جس کی پہلے مثال نہیں ملتی ، وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو فیصلہ کرلیں کہ ہم نے ہر چیلنج اورمشکل کا مقابلہ کرنا ہے۔ جاپان اورجرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ انہوں نے محنت کے ذریعے دنیا میں اپنا پھر مقام بنایا ہے ۔ جادو منتر سے نہیں صرف محنت ، دیانت اور امانت کے ذریعے ترقی کی جاسکتی ہے۔ ہم کوششیں کررہے ہیں۔ انشا اللہ ملکربہتری لائیں گے تاکہ تمام صوبوں کے عام عوام کےلئے گھروں کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ ماضی کی غلطیوں کو سدھاریں گے اورترقی کے ثمرات چاروں صوبوں کو منتقل کریں گے۔ شفاف گورننس کے نظام کو صوبوں میں بھی رائج کریں گے۔کچھی کینال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آبی ذخائرکے منصوبوں کےلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 368ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ، ان میں کچھی کینال کا منصوبہ بھی شامل ہے، اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا، اس منصوبے کو پاکستان کینال کا نام دیں تو بہتر رہے گا۔ ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والی طالبہ خالدہ یوسف کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا تعلق بھی چاغی سے ہے ،ہمیں آپ پر بہت فخر ہے۔ماضی میں میں نے پنجاب کے وزیراعلی کی حیثیت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ دیئے ، ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف نہیں دی ۔ آج ڈیجیٹل انوویشن ، اے آئی اور آئی ٹی کا دور ہے ، لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ،انہوں نے ان بچے ، بچیوں اور گھرانوں کی تقدیر بدل دی اور انہوں نے ملک کی ترقی اور تعلیم کےلئے بڑا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور گزشتہ سال بھی پورے ملک میں میرٹ پر ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کئے گئے ۔ لیپ ٹاپ اور وظائف کے حوالے سے بلوچستان کا کوٹہ باقی صوبوں سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 9 دانش سکولز بنائے جارہے ہیں۔ بچوں اوربچیوں کی تعلیم کےلئے علیحدہ علیحدہ درسگاہیں ،کلاس رومز اور کھیلوں کے میدان ہوں گے۔ غریب اور یتیم بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت حاصل ہوگی، ہزاروں بچے اوربچیاں فارغ التحصیل ہوکر ڈاکٹرز ، انجینئرز بن کر قوم کی بھرپور خدمت کررہے ہیں۔ بلوچستان کے تعلیمی اداروں کےلئے صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر سہولیا ت فراہم کریں گے۔ بلوچستان کے طلبہ و طالبات ملک کی ترقی اورخوشحالی میں بھرپور کردار ادا کریں گے اورملک دشمن عناصرکی بیخ کنی میں ہراول دستہ ثابت ہوں گے، اس طرح پاکستان بہت جلد دہشت گردی سے نجات حاصل کرلے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں مزید وسائل مہیا کرنے ہیں ۔کوئٹہ، قلات اورچمن سمیت بلوچستان کے عام آدمی کو جب تک یہ احساس نہیں ہوگا کہ اس کی ترقی اور خوشحالی کےلئے بلوچستان کی حکومت اور وفاق ملکرپنجاب ، خیبرپختونخوا اور سندھ کی ترقی اور خوشحالی کی طرح سوچتے ہیں ،اس وقت تک وہ مطمئن نہیں ہوگا ۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ بلوچستان کی ترقی ، خوشحالی ، تعلیم اور علاج کےلئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، پاکستان کو دنیا کا ایک طاقتور ترین ملک بنائیں گے۔ ورکشاپ کے شرکا کے ساتھ وزیراعظم نے گروپ فوٹو بھی ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں