مستونگ////پارٹیز کے زیر اہتمام سراوان پریس کلب مستونگ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، پریس کانفرنس سے نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی،بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی محمد انور مینگل،میر فرید مینگل، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی نائب امیر مفتی عصمت عزیز شاہوانی، مولاناشکیل احمد، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر حافظ خالدالرحمان شاہوانی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ضلعی رہنما بابل جان، جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی امیر مولانا عبدالوحید ربانی، باول نسیم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مستونگ کی سابقہ انتظامی حیثیت فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران ضلع مستونگ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، کھڈکوچہ میں جاری کرفیو، سیشن جج پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعے، بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور حکومتی پالیسیوں پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔
رہنماؤں نے کہا کہ مستونگ ایک الگ تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی شناخت رکھنے والا ضلع ہے، جسے عجلت میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے ذریعے کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا عوامی امنگوں اور زمینی حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیارت واقعے کے بعد حکومت نے جلد بازی میں یہ فیصلہ کیا، جو عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مستونگ، قلات، سوراب اور نوشکی پر مشتمل الگ قلات ڈویژن تشکیل دیا جائے اور مستونگ کی سابقہ انتظامی حیثیت فوری طور پر بحال کی جائے۔
آل پارٹیز اجلاس میں اس حوالے سے متفقہ قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مستونگ کو دوبارہ اس کی سابقہ انتظامی پوزیشن پر بحال کرے، بصورت دیگر تمام سیاسی جماعتیں مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کرتے ہوئے عوامی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے ضلع مستونگ میں امن و امان کی انتہائی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی رٹ تقریباً ختم ہو چکی ہے، ضلع کے بیشتر علاقے عملاً نو گو ایریاز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ قومی شاہراہوں پر سفر کرنا بھی خطرات سے خالی نہیں رہا۔
انہوں نے حالیہ سیشن جج پر ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ مقررین کے مطابق حکومت امن و امان برقرار رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، حالانکہ سرکاری بجٹ کا بڑا حصہ سکیورٹی پر خرچ کیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا۔
رہنماؤں نے کھڈکوچہ میں فورسز کی جانب سے جاری کرفیو پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو اور کارروائیوں کے باعث عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق باغات میں تیار پھل خراب ہو رہے ہیں، زمینداروں کو کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا ہے، جبکہ طلبہ تعلیم، مزدور روزگار اور بیمار و زخمی افراد علاج معالجے سے محروم ہو کر گھروں میں محصور ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی پالیسی پر فوری نظرثانی کریں تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، فوجی آپریشن یا سخت گیر پالیسیوں میں نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ صوبے میں پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری اور قتل و غارت کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اس وقت شدید ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا شکار ہیں، مگر حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے انتظامی تقسیم اور ڈویژنوں کی تبدیلی جیسے اقدامات میں مصروف ہے، جس سے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔
آل پارٹیز رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع مستونگ میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، کھڈکوچہ کی صورتحال کا انسانی بنیادوں پر جائزہ لے کر عوامی مشکلات کا ازالہ کیا جائے اور مستونگ کی تاریخی و انتظامی حیثیت بحال کرتے ہوئے عوامی امنگوں کا احترام کیا جائے۔
آل پارٹیز کی مشترکہ پریس کانفرنس، مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کا فیصلہ مسترد، امن و امان کی خراب صورتحال، کھڈکوچہ کرفیو اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر شدید تشویش
41













