حاجی نور احمد لہڑی کا اغوا قابلِ مذمت ہے، حکومت فوری طور پر انہیں بحفاظت بازیاب کرائے،نیشنل پارٹی

42

کوئٹہ: نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اسلم بلوچ، اراکین صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ، کلثوم نیاز بلوچ نے پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی کے والد حاجی نور احمد لہڑی کے اغواءکی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں فوری طور پر بحفاظت بازیاب کراکر ریاست اپنی رٹ قائم کرے حکومت کی غیر سنجیدگی، عدم توجہی کی وجہ سے بلوچستان بد امنی کا گڑھ بن چکا ہے جہاں پر سیاسی کارکنوں سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اغواءاور عدم تحفظ کی وجہ سے عوام ذہنی کوفت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیٹ، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، حاجی عطاءمحمد بنگلزئی، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری میران بلوچ، عبدالرسول سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ اسلم بلوچ، میر رحمت صالح بلوچ، کلثوم نیاز بلوچ اور یاسمین لہڑی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات گزشتہ دو دہائیوں سے بدترین ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پر بسنے والے تمام لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے آئے روز واقعات رونما ہورہے ہیں ریاست کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی ہے
حالانکہ ریاست سب سے زیادہ مضبوط ہے اسے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے کلیدی کردار اد اکرتے ہوئے اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئے کیونکہ حکومت کی رٹ صرف ریڈ زون میں 400 میٹر تک نظر آتی ہے جبکہ پورا صوبہ آگ میں جل رہا ہے جہاں پر تمام روڈ اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے غیر محفوظ ہیں حکومت سب اچھا کا راگ الاپ رہی ہے لیکن عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہے جس طرح پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی کے والد حاجی نور احمد لہڑی کو رات کی تاریکی میں ان کے گھر سے اغواءکیا گیا تا حال حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت انتظامیہ ان کا سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام ہے پہلے عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا اب سیاسی ورکروں، صحافیوں، وکلاءسمیت دیگر کو نشانہ بنایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ 130 ارب روپے امن وامان کے لئے خرچ کرنے کے باوجود امن کہیں نظر نہیں آرہا ہر طرف بد امنی پھیلی ہوئی ہے اور حکومت کسی چیز کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی
جس کا واضح ثبوت سانحہ ہنہ اوڑک اور زیارت سب کے سامنے ہے اگر حکومت اپنی ذمہ داری نبھاتی اور خاموشی اختیار نہ کرتی تو اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوتے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جب بلوچستان کی حکومت سنبھالی تھی اس وقت بھی اس طرح کے حالات تھے لیکن انہوں نے بہتر حکمت عملی اور پولیس سمیت دیگر اداروں کو سیاسی مداخلت سے دور رکھ کر صوبے میں اغوائکاری کے 72 گینگز اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیا جس سے صوبے میں امن قائم ہوا اس طرح کے واقعات کوئی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ سب سے زیادہ طاقتور ریاست ہے اسے اپنی طاقت کے ذریعے امن بحال رکھنا چاہئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے اب سیاسی کارکنوں، بزرگ شہریوں کو اغواءکیا جارہا ہے جو حکومت اور اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اور یہ واقعہ اداروں اور حکومت کیلئے کھلا چیلنج ہے اس لئے حکومت فوری طور پر حاجی نور احمد لہڑی کو بحفاظت بازیاب کرائے اور ان کے اغواءکے پیچھے جو بھی محرکات اور عوامل ہے انہیں عوام کے سامنے لایا جائے بصورت دیگر نیشنل پارٹی سخت لائحہ عمل طے کرے گی جس کے لئے پارٹی کے عہدیدار اور کارکن ہمہ وقت تیار ہے انہوں نے کہا کہ ریاست،حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی کارکنوں سمیت ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں