بلوچستان کا مستقبل بندوق، خوف اور خونریزی سے نہیں، امن، اتحاد اور قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے، شفیق الرحمن مینگل کے گھر پر حملہ بزدلانہ کارروائی ہے، نوابزادہ جمال رئیسانی

26

کوئٹہ:پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و ایم این اے نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے قبائلی رہنما اور اپنے والد کے دیرینہ دوست میر شفیق الرحمن مینگل کے گھر پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ ہماری قبائلی روایات، بلوچستان کے امن، ریاستی رٹ اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہر آواز پر حملہ ہے۔نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ میر شفیق الرحمن مینگل نے ہمیشہ مشکل حالات میں دہشت گردی اور شدت پسند عناصر کے خلاف واضح اور جرات مندانہ مقف اختیار کیا۔
ایسے باہمت لوگوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد امن، اتحاد اور عوامی شعور سے خوفزدہ ہیں۔نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے اس سفاک، بزدلانہ اور قابلِ مذمت حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت عطا کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس حملے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں۔آخر میں نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل بندوق، خوف اور خونریزی سے نہیں بلکہ امن، اتحاد، انصاف اور قانون کی حکمرانی سے وابستہ ہے۔ دہشت گرد عناصر کو واضح پیغام ہے کہ ہم نہ پہلے ان کے سامنے جھکے تھے، نہ آج جھکیں گے اور نہ ہی آئندہ کبھی جھکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں