کوئٹہ میں معروف تاجر ہاشم نورزئی قتل کیس حل، مرکزی ملزم سمیت 5 افراد گرفتار

29

کوئٹہ:کوئٹہ پولیس نے معروف تاجر اور نجی ہوٹل کے مالک ہاشم خان نورزئی کے قتل کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق قتل 16 کروڑ روپے کے مالی تنازع کے باعث کیا گیا، جبکہ ایک مفرور ملزم کی گرفتاری اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کی برآمدگی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تفتیش کے دوران سائنسی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی تجزیے کی مدد سے مرکزی ملزم حکمت اللہ کو گرفتار کیا گیا جس نے ابتدائی تحقیقات میں انکشاف کیا کہ اس نے اپنے بھائی سعداللہ نورزئی کے ساتھ مل کر ہاشم نورزئی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان کے مطابق قتل کی بنیادی وجہ 16 کروڑ روپے کا مالی تنازع تھا۔انہوں نے بتایا کہ منصوبہ بندی کے بعد حکمت اللہ نے اپنے گن مین جان محمد اور امان اللہ کو بھی واردات میں شامل کیا، جبکہ پولیس نے مزید کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی ریکی کرنے والے دو ملزمان میر خان اور دلاور کو بھی گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کئی روز تک کچرا چننے والوں کے بھیس میں مقتول کے فارم ہاو¿س کے اطراف موجود رہے اور اس کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات مرکزی ملزم تک پہنچاتے رہے۔ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ وقوعہ کے روز حکمت اللہ خود بھی مقتول کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا اور منصوبہ بندی مکمل ہونے کے بعد ملزمان نے ہاشم نورزئی کو نشانہ بنا کر فرار ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم سے آلہ قتل، کلاشنکوف، ایل ایم جی اور بڑی مقدار میں ایمونیشن برآمد کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ واردات کے بعد اسلحہ اور ایمونیشن شہر سے باہر منتقل کرنے کی کوشش کرنے والے گن مینوں کو بھی بروقت کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ڈی آئی جی کے مطابق کیس کا اہم ملزم سعداللہ نورزئی تاحال مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی ملزم حکمت اللہ کے بھائی شمس کے نام پر رجسٹرڈ تھی جبکہ کالی ویگو کو کراچی منتقل کیا گیا تھا جس کی برآمدگی کے لیے سندھ پولیس کے تعاون سے کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوا ہے کہ مفرور ملزم سعداللہ نورزئی اور اس کا ایک بھائی مقتول کی تدفین اور فاتحہ خوانی میں بھی شریک ہوئے تھے جہاں انہوں نے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا تاکہ خود پر کسی قسم کا شک نہ ہونے دیں۔
ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس کیس کے تمام پہلوو¿ں کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے واردات میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پُرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی آئی ڈبلیو نے گزشتہ دوما ہ کے دوران جدید تفتیشی طریقہ کا ر ، سی سی ٹی وی تجزیے ۔ ڈیجیٹل فرانزک ،تکنیکی شواہد اور انالیسس ونگ کی معاونت سے متعدد بلائنڈمرڈر کا میا بی سے ٹریس کئے 19مئی 2026ءکو مقتول ولید کو نا معلوم ملزم نے سرعام فا ئرنگ کر کے زخمی کیا جو بعد ازاں زخموں کی تا ب نہ لا کر جاں بحق ہوا اس سلسلے میںمقدمہ ایس سی آئی ڈبلیو کے سپرد ہو نے کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیجز ، کرا یہ داری ریکارڈ اور تکنیکی تجزیے کی مدد سے ملزم سید نعیم شاہ کو گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہو نے والا 30بور پسٹل بھی برآمد کر لیا گیا ۔
کو ئٹہ پو لیس اس لئے بار با ر عوام سے گزارش کر تی ہے کہ کرایہ داری فارم تھانہ میں رجسٹرڈ کرا ئیں تا کہ جرا ئم پیشہ افراد کی نشاندہی میں مدد مل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ 30اپریل 2026ءکو زرغون آبادسے ایک نا معلوم شخص کی قتل شدہ نعش بر آمد ہو ئی جس کی دو روز بعد جاوید شیخ کے نا م سے شناخت ہو ئی جدید تکنیکی شواہد ، مقتول کے پس منظر اور پیشہ ورانہ تفتیش کی بنیاد پر ملزم شاہ محمد کو گرفتار کر کے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ 24مئی 2026ءکو محبوب خان کو فا ئرنگ کر کے قتل کیا گیا سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کا ل ڈیٹا ریکارڈ کے تجزیے سے ملزمان کی شناخت کا عمل میں آئی اور قتل کے مر کزی ملزمہ (ش)کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ملزمانکی گرفتاری کےلئے کا رروائیاں جا ری ہیں ۔
انہوں نے بتا یا کہ مورخہ 19جون 2026ءکو شالکوٹ کے پہاڑی علا قے میں 2افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا مقدمہ ایس سی آ ئی ڈبلیو کے سپرد ہو نے کے بعد جدید ٹیکنا لو جی ، تکنیکی شواہد اور مخبر خاص کی مدد سے ملزم حمید کو گرفتار کر کے آلہ قتل بر آمد کیا گیا جبکہ دوسرے ملزم شہزاد کی گرفتاری کے لئے چھا پہ ما ر کا رروائیاں جا ری ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ سیریس کرا ئم انویسٹیگیشن ونگ نے گزشتہ دو ما ہ کے دوران جدید سائنسی تفتیش ، ڈیجیٹل فرانزک ، سی سی ٹی وی تجزیے ، تکنیکی شواہد اور انالیسس ونگ کی معاونت سے پا نچ بلا ئنڈ مرڈر کیسز کا میابی سے ٹریس کئے ۔متعدد خطرنا ک ملزمان کو گرفتار کیا اور آلہ قتل بر آمد کئے اور سنگین مقدمات میں نما یاں پیش رفت حاصل کی ۔ایس سی آئی ڈبلیو جدید ٹیکنا لوجی ، سائنسی شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کے ذریعے سنگین جرا ئم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا نے ، متاثرین کو انصاف فراہم کر نے اور ہر مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچا نے کے لئے عزم پر کا ر بند ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں