جرگہ قومی ورثے اور روایتی زندگی کا انمول حصہ ہے،گورنر بلوچستان

31

کوئٹہ(روزنامہ تعمیر بلوچستان)گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ عملی سیاست میں عوامی رائے ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب سیاسی حکمت عملی استوار کی جا سکتی ہے۔ عوام کی محبت، احترام اور حمایت ایک لیڈر کے وقار اور اعتبار کا تعین کرتی ہے۔ ایک لیڈر یا بیوروکریٹ کبھی بھی ڈرائنگ روم اور سرکاری دفاتر تک محدود رہ کر عوام کے حقیقی مسائل و مشکلات کو نہیں سمجھ سکتا۔ زمینی حقائق کا درست ادراک عوام کے ساتھ براہ راست بات چیت سے حاصل ہوتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ خدمت خلق کے جذبے سے پیوستہ ہوکر ہم ڈویژن کی سطح پر جرگے منعقد کرتے ہیں جس کا مقصد محض جلسہ کرنا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو براہ راست سننا، ان کے اصل مسائل کو سمجھنا اور عملی حل نکالنا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں آواران میں ایک عوامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بارہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، قدرمن چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، انسپکٹر جنرل پولیس طاہر خان، سیاسی رہنماء، قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور ضلعی انتظامیہ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے شرکائسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سیاست ہمیں یہ سیکھاتی ہے کہ ایک سیاسی رہنما اپنے عوام سے قریبی اور مسلسل تعلق رکھنے کے نتیجے میں عزت و عظمت پاتا ہے۔ عوام کی آوازیں، خدشات اور خواہشات ہمیشہ ہمارے فیصلوں اور پالیسیوں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ انہون نے کہا کہ جرگہ ہمارے قومی ورثے اور روایتی زندگی کا ایک انمول حصہ ہے۔ صدیوں سے جرگہ نے مشاورت، مفاہمت اور اجتماعی فیصلہ سازی کیلئے ایک معزز ادارے کے طور پر کام کیا ہے۔
جرگہ باہمی احترام، مشترکہ ذمہ داری اور ہماری قومی اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ مجھے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کا مستقبل بہت روشن نظر آ رہا ہے۔ ہمارا پورا صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، اسٹریٹجک اہمیت اور غیرمعمولی انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ مکران اور گوادر میں جو معاشی اور تجارتی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ آواران اور اردگرد کے علاقوں کے لوگ ترقی و پیشرفت کے اس نئے دور سے زیادہ مستفید ہونگے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی ترقی اس وقت تک معنی خیز نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچیں۔ آپ گواہ رہیں کہ ہمارے تمام جرگے معاشرے کی خاموش اکثریت کی آواز بنیں گے۔ اسطرح کے عوامی جرگے ضلعی انتظامیہ اور تمام سرکاری اداروں کے آفیسران کو بھی مزید فعال بنائیں گے کیونکہ یہی جرگے انہیں لوگوں کی ضروریات کیلئے زیادہ مؤثر طریقے سے جواب دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ گورنر جعفرخان نے کہا کہ ہم ہر مسئلے کو پولٹیکل ڈائیلاگ، اجتماعی دانش اور قانون کے دائرے میں حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض علاقے بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں لیکن مسلسل مذاکرات، باہمی اعتماد اور آئین پاکستان کے احترام کے ذریعے ہم دیرپا امن، سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی حاصل کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ آج کا یہ عوامی جرگہ ضرور مثبت نتائج پیدا کریگا، امن و امان کو مضبوط کریگا اور لوگوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دیگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں