سپریم کورٹ کا بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم

40

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عمران خان کی صحت اور اہل خانہ سے ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔

عدالت نے عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیدیا، بانی پی ٹی آئی آئندہ سماعت تک اسپتال میں رہیں گے، عدالت نے ہفتے میں ایک دن اہلخانہ سے بھی ملاقات کا بھی حکم دیدیا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی کے ہمراہ ہونگے۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی 2 دن کے اندر اسپتال منتقلی یقینی بنانے کا حکم دیدیا۔

تحریک انصاف سے بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس پر سیاست نہ کرنے اور اسپتال کے باہر مجمع نہ لگنے کی یقین دہانی بھی لے لی گئی۔

دوران سماعت جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی کس بہن کی ملاقات ہونی چاہئے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ عظمیٰ خان چونکہ ڈاکٹر ہیں اس لیے ان کی ملاقات کرائی جائے۔

عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے سوال پر وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ پمز میں تو انھیں حکومت پہلے بھی اکثر لے جاتی رہی ہے، تو پھر نجی اسپتال کے اخراجات کون ادا کرے گا؟ وکیل عظمیٰ خان نے کہا کہ نجی اسپتال کے اخراجات ہم خود ادا کریں گے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی کی میڈیکل رپورٹس پبلک نہ ہونے کی گارنٹی کون دے گا؟ کون گارنٹی دے گا کہ میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں ہوگی؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سیاسی جماعت میڈیکل رپورٹ سیاست کیلئے استعمال نہیں کرے گی، میڈیکل رپورٹ ڈاکٹرز اور عمران خان کی فیملی کا معاملہ ہے۔

جسٹس نعیم افغان نے استفسار کیا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اسپتال کے باہر مجمع نہیں لگے گا؟ اسپتال میں اور مریض بھی ہوتے ہیں کوئی ڈسٹرب نہ ہو، پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری سیاست کے اصول الگ ہیں،صحت پر سیاست نہیں کریں گے۔

اس سے قبل عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی تمام میڈیکل رپورٹس، 3 سال کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور بچوں سے ٹیلی فون پر گفتگو کرانے کی تفصیلات بھی منگوالی۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ جب میڈیکل ریکارڈ عدالت میں آجائے گا وہ خفیہ نہیں رہے گا۔ جسٹس نعیم افغان نے فریقین سے کہا کہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا میڈیکل ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ جو مواد دیا گیا ہے وہ صرف میڈیکل رپورٹ کی سمری ہے، تمام ریکارڈ جمع کرایا جائے۔ ریکارڈ عدالت میں آئے گا تو وہ خفیہ نہیں رہے گا۔

جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ بہنوں کی ملاقات کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ملاقات نہیں ہوگی، جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو کیا آپ بھی کریں گے؟ بہنوں سے ملاقات کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ ریاست کا کام نہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر عمل کیوں نہیں ہو رہا؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ بہنوں کی 3 سال کے دوران 48 ملاقاتیں کروائی گئی ہیں۔

وکیل عزیر بھنڈاری نے عدالت کو بتایا کہ بہنوں کی ملاقات کرائی جائے، وہ میڈیا ٹاک نہیں کریں گی، جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ایک بات طے کرلیں کہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں ہوگی، سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقاتوں کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، تمام ملاقاتوں اور بانی کی بچوں سے بات کروانے کا ریکارڈ بھی مانگ لیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں