یمن کے حوثیوں کی مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجنے کی کوشش،سعودی فضائی دفاع نے ڈرون تباہ کردیا

58

یمن کے حوثی باغیوں نے مقدس سرزمین مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون فائر کردیا۔

سعودی اتحادی افواج کےمطابق سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کی جانب آنے والے حوثی ڈرون کو تباہ کردیا،ڈرون ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا،ڈرون حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا تھا،2017 کے بیلسٹک میزائل واقعے کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش ہے۔

سعودی اتحاد نےواضح کیا ہےکہ حرمین شریفین کی جانب کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا،حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں۔

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹریٹ نےمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خطے پرحوثی گروپ کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

او آئی سی کےمطابق سعودی عرب کےخلاف حوثیوں کی مسلسل جارحیت سے بے گناہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے،مقدس مقامات اورمساجد کی حرمت کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے،ایسے حملے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کے احترام کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

چیف امام کعبہ شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نےکہا ہےکہ مقدس مقامات پرحوثی حملےمذہبی اور انسانی اقدار کےمنافی ہیں،مقدس مقامات کونشانہ بنانابین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شیخ عبدالرحمان السدیس نےکہاکہ اسلام انسانی جان، مال اور عزت کے تحفظ اور جارحیت کی ممانعت کا درس دیتا ہے،موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اُنہوں نےمزیدکہاکہ عوام افواہوں سےخبرداررہیں اورمعلومات صرف مستند ذرائع سے حاصل کریں،عوام کا اتحاد اورقومی یکجہتی خطرات کا مقابلہ کرنے کی بنیادی قوت ہے

واضح رہےکہ اس سے قبل منگل کی رات کو بھی سعودی عرب کے شہروں جزان،ابہا اور خمیس ​​مشیط میں حملے کے خطرات پر سائرن بج اٹھے تھےتاہم کچھ دیر بعد وارننگ واپس لے لی گئی تھی۔

پیر کےروزحوثی فورسزکی جانب سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائلوں اورڈرونز کے متعدد حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں