مستونگ: آل پارٹیز اجلاس، مستونگ کی تاریخی و انتظامی حیثیت برقرار رکھنے کا مطالبہ، جولائی کے آخری ہفتے میں عظیم الشان احتجاجی جلسۂ عام کی تجویز

41

مستونگ: نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی کی زیر صدارت نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکریٹریٹ میں آل پارٹیز کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جمعیت علمائے پاکستان، پاکستان تحریک انصاف، نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری میر فرید مینگل، ضلعی پبلیکیشن سیکریٹری منیر آغا بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی میڈیا کوآرڈینیٹر حافظ عبدالقادر قریشی، تحصیل مستونگ کے امیر مولانا ضیاء الرحمان مینگل، جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی امیر مولانا عبدالوحید ربانی، پاکستان تحریک انصاف کے سرفراز احمد ساسولی کے علاوہ نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن حاجی نزیر سرپرہ، ضلعی لیبر ونگ کے صدر ظفر بلوچ، رحمت بلوچ، محمود بلوچ، نوید بنگلزئی، نزیر آحمد نورزئی عمران بلوچ، امداد بلوچ چاکر بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متفقہ طور پر اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مستونگ کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال رکھنے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مستونگ کی الگ تاریخی، جغرافیائی، انتظامی اور ثقافتی شناخت ہے، جسے کسی بھی صورت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، جہاں عوام، ٹرانسپورٹرز، سیاسی کارکن، تاجر، طلبہ اور حتیٰ کہ عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ آئے روز دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جبکہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

مقررین نے کہا کہ ایسے سنگین حالات میں ایک جعلی، مسلط شدہ اور نام نہاد حکومت کی جانب سے محض ایک حکم کے ذریعے مستونگ سمیت دیگر علاقوں کی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی حیثیت تبدیل کرنا نہ صرف عوامی مینڈیٹ کی توہین بلکہ مقامی شناخت اور حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اپنا فیصلہ واپس لے اور مستونگ کی سابقہ حیثیت بحال کرے، بصورت دیگر عوام بھرپور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

دریں اثناء اجلاس کے اختتام پر ایک اعلیٰ سطحی رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جسے مستونگ سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، نوابوں، سرداروں، طلبہ تنظیموں، منتخب عوامی نمائندوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف جولائی کے آخری ہفتے میں آل پارٹیز کے پلیٹ فارم سے مستونگ میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسۂ عام منعقد کرانے کی تجاویز بھی زیر غور آئے، اور جس میں عوام کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کی عزم کا بھی اعادہ کیا گیا

رابطہ کمیٹی میں نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر خان ملازئی، سجاد دہوار، صوبائی لیبر سیکریٹری میر احمد بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن آغا فاروق شاہ، ظفر بلوچ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی امیر مولانا شبیر احمد عثمانی، تحصیل مستونگ کے امیر مولانا ضیاء الرحمان مینگل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر انور مینگل، ضلعی جنرل سیکریٹری میر فرید مینگل، جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی امیر مولانا عبدالوحید ربانی، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر نوروز خان بنگلزئی، سرفراز احمد ساسولی، نیشنل پارٹی لائرز ونگ کے عبدالحمید بنگلزئی ایڈووکیٹ اور اعجاز احمد سارنگزئی ایڈووکیٹ شامل ہوں گے۔

اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستونگ کی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی شناخت کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتیں، قبائلی عمائدین، طلبہ، وکلاء، سول سوسائٹی اور عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے گا اور ہر آئینی، قانونی اور جمہوری طریقے سے اس فیصلے کے خلاف بھرپور عوامی جدوجہد جاری رکھی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں