کھڈکوچہ کے عوام اور زمینداروں کی جبری بے دخلی ناقابلِ قبول ہے، جے یو آئی ہر فورم پر مخالفت کرے گی،مولانا شبیراحمد عثمانی کی پریس کانفرنس

37

*مستونگ/// جمعیت علماء اسلام ضلع مستونگ کےامیر شیخ الحدیث مولانا شبیر احمد عثمانی نے دیگر رہنماؤں نے سراوان پریس کلب مستونگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحصیل کھڈکوچہ کی مقامی آبادیوں، زمینداروں اور باغات مالکان کو جبری بے دخل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام کھڈکوچہ کے عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اس جابرانہ و ظالمانہ اقدام کی ہر فورم پر مخالفت کرے گی۔۔۔۔۔۔۔پریس کانفرنس میں جمعیت علماء اسلام ضلع مستونگ کےنائب ضلعی امیر مولانا اختر محمد پیرکانی، ضلعی نائب امیر،مولانا غلام نبی،مفتی عصمتِ عزیز، قاری عبدالرزاق، مولانا حیات اللہ، قاری عزت اللہ، مولانا شکیل احمد ساجد، مولانا سلیمان، مولانا جان محمد، مولوی نصر اللہ اسماعیل لہڑی، اصغر رئیسانی، شریف اللہ شاہوانی، محمود عزیز، قاری محمد عیسیٰ، حافظ رحیم اللہ، حاجی محمد اقبال، مولانا امان اللہ اور دیگر رہنما موجود تھے۔۔۔رہنماؤں نے کہا کہ جب مقامی انتظامیہ کی جانب سے کھڈکوچہ کی آبادیوں کو 48 گھنٹوں کے اندر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی تو علاقے کی تقریباً 80 فیصد آبادی اپنی جان و مال کے تحفظ کی خاطر جوق در جوق نقل مکانی پر مجبور ہوئی۔
اس دوران مستونگ کی مقامی و ضلعی جماعتوں نے جمعیت علماء اسلام کی مرکزی قیادت، خصوصاً مرکزی جنرل سیکرٹری و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے علاقے کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری نے متعلقہ انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اگر عوام اور زمینداروں کو جبراً ان کے گھروں، زمینوں اور باغات سے بے دخل کیا گیا ہے تو ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، بنیادی سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے اور مزید آبادی کو جبراً بے دخل کرنے سے حکومت باز رہے۔رہنماؤں کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری نے عوام کو علاقے سے جبراً بے دخل کرنے کے عمل کو ہٹلر کے مظالم سے تشبیہ دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور اسے یکسر مسترد کیا۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بعض سیاسی عناصر نے مولانا حیدری صاحب کے اس واضح مؤقف کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا،
جو قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے۔جے یو آئی رہنماؤں نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے اس موقف پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ تحصیل کھڈکوچہ کے باغات اور درختوں کو ضائع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ باغات اور درختوں کو ختم کرنے کا فیصلہ بچگانہ، غیر دانشمندانہ اور عوام دشمن سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔سکیورٹی اہلکاروں پر حملے صرف باغات سے نہیں بلکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون اور دیگر حساس علاقوں سے بھی ہوتے رہے ہیں۔ اگر سکیورٹی کے نام پر باغات کاٹنے کی بات کی جا رہی ہے تو سب سے پہلے کوئٹہ کے ریڈ زون اور حساس علاقوں کے سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور ریڈ زون کے قریب واقعہ دفاتر و عمارتوں کو بھی مسمار کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ اسلام نے درخت لگانے، ان کی حفاظت کرنے اور باغات آباد کرنے کی خصوصی ترغیب دی ہے۔ کھڈکوچہ کے باغات نہ صرف ماحول کا حسن ہیں بلکہ مقامی زمینداروں، مزدوروں اور سینکڑوں خاندانوں کے روزگار کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔انھوں نے اسلام آباد میں منعقدہ امن ورکشاپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے ڈھائی سو سے زائد معزز شخصیات نے شرکت کی
، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان کے حقیقی زمینی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات پر صرف چند افراد نے گفتگو کی۔ جب ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو بلوچستان کے عوامی مسائل اور چیلنجز پر بات کرنے کا موقع دیا گیا تو انہوں نے اصرار کیا کہ وہ بند کمرے میں بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کا خمیازہ بلوچستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔بلوچستان کے مسائل کا حل بند کمروں میں نہیں بلکہ عوام کے درمیان بیٹھ کر، زمینی حقائق کو سمجھ کر اور مقامی لوگوں کو اعتماد میں لے کر نکالا جا سکتا ہے۔جے یو آئی رہنماؤں نے ڈپٹی کمشنر مستونگ کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اتنے شریف ہیں کہ نہ کچھ سن سکتے ہیں اور نہ ہی کچھ بول سکتے ہیں، جبکہ مستونگ شہر کے تمام لنک روڈز بند ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے ایوان میں کھڈکوچہ کے حوالے سے مؤثر آواز بلند کرنے پر مولانا عبدالغفور حیدری اور اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مشکلات کو ایوان میں اجاگر کیاجمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے نواب شاہوانی صاحب کی جانب سے کھڈکوچہ کے مسئلے پر جرگے کے انعقاد کو بھی قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرگہ ایک مثبت قدم ہے، جس کے ذریعے مقامی آبادی کے تحفظات اور مطالبات کو حکام تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔پریس کانفرنس میں جے یو آئی ضلع مستونگ نے واضح کیا کہ کھڈکوچہ کے عوام، زمینداروں، باغات مالکان اور محنت کشوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گاجمعیت علماء اسلام ان کے جان و مال، زمینوں، باغات اور روزگار کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، سیاسی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں