اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں نے جعلی قانون سازی کے ذریعے آئندہ نسلوں کے وسائل کو فروخت کیا ، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے سرزمین کے وسائل کو فروخت کیا گیا ، نوابزادہ لشکری رئیسانی

40

کوئٹہ۔سنیئر سیاستدان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میںآباد برادریوں، مذہبی اقلیتوں کو اس سرزمین نے سینے سے لگا رکھا ہے،اب وقت ہے بلوچ، پشتون اقوام اور برادریاں تقسیم سے باہر نکل کر سرزمین کے وقار، اختیار اور حقوق کی جنگ لڑیں ۔یہ بات انہوں نے عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں ہفتہ کو سراوان ہاوس میں منعقدہ سیٹلرز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی، نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان آج تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس سرزمین پر بسنے والے ہر شخص کو اس مٹی و حقوق کا دفاع ، وطن کے امن ، خوشحالی ، ترقی میں کردار ادا کرنا ہوگا
، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایسے بھی سیٹلرز ہیں جو چھ چھ پشتوں سے یہاں آباد ہیں ، سرزمین بلوچستان نے ان کو پنا ہ دی ہوئی ہے ، بلوچستان نے سیٹلرز کو سینہ سے لگاکر ان کو یہاں روزگار دیا ، یہاں سے سینیٹرز ، اراکین اسمبلی منتخب ہوئے اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہیں بلوچستان پر ان کا بھی حق ہے وہ اس تقسیم سے باہر نکل کر آگے آئیں اور لوگوں کو بتائیں کہ بلوچستان ان کی بھی سرزمین ہے ان کے آباو اجداد ،بزرگوں کی قبریں یہاں ہیں ، کئی پشتوں سے آباد سیٹلزر سرزمین کی ترقی، خوشحالی ، امن اور جعلی سیاسی عمل کا راستہ روکنے اور بلوچستان کی ترقی خوشحالی اور امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور ان لوگوں سے دور رہیں جنہوں نے انہیں سیٹلرز کی آڑ میں بلوچستان کے اجتماعی قومی امور سے دور رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ یہاں آباد قدیم سیٹلرز کو بلوچستانی قرار دے کر بلوچستان کی ترقی ، خوشحالی اور امن کا حصہ بنائیں لیکن جنہوں نے تقسیم کی بنیاد پر سیٹلرز سے ووٹ لیا
انہوں نے کبھی یہ کوشش نہیں کی کہ آپ کو اس سماج کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم میں اس سرزمین کا نقصان ہے بلوچستان میں آبا د برادریاں ، اقلیتیں صوبے کے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے حق کیلئے بھی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں جعلی سیاسی ماحول ، جعلی سیاسی جماعتیں اور لوگوں کو ایجاد کیا گیا جو سرزمین مخالف ایجنڈے پر عملدرآمد کررہے ہیں اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں نے جعلی قانون سازی کے ذریعے آئندہ نسلوں کے وسائل کو فروخت کیا ، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے سرزمین کے وسائل کو فروخت کیا گیا ، ہماری کوششوں سے وہ قانون دوبارہ اسمبلی میں آیا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس قانون پر بات نہیں ہوئی ، جعلی سیاسی عمل اور مقامی ہوٹل پراجیکٹ کے تحت اس صوبے پر مسلط کی گئی غیر نمائندہ اسمبلی میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ اس سرزمین کے حقوق کا دفاع کرے اس لیے ہم نے عوامی اسمبلی کے انعقاد کافیصلہ کیا اور جرگہ میں ہم اپنے مسائل کو اجاگر کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں