3 ستمبر کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، تاجروں، دکانداروں اور عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل ہے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

39

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان و ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ3ستمبر کو ملک بھر کی طرح بلوچستان بھر میں بھی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، بارڈرز و شاہراہوں کی بندش اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے نام پر بھتہ خوری کے خلاف تاجربرادری، دکانداروں اور شہریوں کے تعاون سے شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ عوام اپنے بنیادی حقوق اور مسائل کے حل کے لیے اس جمہوری احتجاج کو کامیاب بنائیں۔ جمہوری مزاحمت کے ذریعے ظلم و جبر اور لاقانونیت کا راستہ مل کر روکیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے3ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تیاریوں کے حوالے سے جماعت اسلامی بلوچستان کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان کاکڑ، نائب امراء زاہد اختر بلوچ،مولانا عبدالکبیر شاکر،مولانا محمد عارف دمڑ،صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری نورالدین غلزئی، پروفیسرسلطان محمد کاکڑ،الخدمت فاؤنڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی، میڈیا انچارج عبدالولی خان شاکر، امیر ضلع کوئٹہ عبدالنعیم رند،اعجاز محبوب،طیب فرید خان، روح اللہ سالار، احمد شاہ غازی سمیت دیگر ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں 29 اور 30 اگست کے احتجاجی دھرنے کا جائزہ لیا گیا
اور دھرنے کی کامیابی پر ذمہ داران اور کارکنان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ3ستمبر کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے تاجر تنظیموں سے رابطے کیے جائیں گے اور شہریوں، دکانداروں اور عوام کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے بھرپور عوامی تعاون حاصل کیا جائے گا۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان آج ریگستان بنا ہوا ہے، امن وامان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، شاہراہیں غیر محفوظ ہیں، ٹرکوں اور بسوں کو جلایا جا رہا ہے اور نوجوانوں کو غائب کیا جا رہا ہے۔ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں اور کاروبار، تجارت اور روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور مسلسل ناانصافیوں کے باعث نوجوانوں کو جمہوری مزاحمت کے بجائے مسلح جدوجہد اور پہاڑوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش اور سازش ہو رہی ہیجو بلوچستان اور ملک کے مفاد میں نہیں۔ ریاست اور حکومت کو چاہیے کہ نوجوانوں کو دیوار سے لگانے کے بجائے انہیں روزگار، تعلیم، کھیل اور کاروبار کے مواقع فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں، انہیں صرف عزت، امن، روزگار اور اپنے بنیادی حقوق چاہیے۔ حکومت بلوچستان میں بدامنی کے خاتمے، شاہراہوں کے تحفظ، بارڈرز کو قانونی تجارت کے لیے کھولنے اور عوام کو درپیش مشکلات کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں