کوئٹہ: عدالت عالیہ بلوچستان میں عوامی سہولت مرکز کا افتتاح کردیا گیا۔ تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، سپریم کورٹ کے ججز جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس روزی خان بڑیچ، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل، ہائیکورٹ کے ججز، سینئر وکلا، عدالتی افسران اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد سائلین کو بنیادی معلومات اور ضروری سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنا اور انصاف کے حصول کو عام شہری کے لیے مزید آسان بنانا ہے۔ مرکز میں سائلین کے لیے انتظار گاہ، واش روم، بائیومیٹرک سہولت، معلوماتی ڈیسک اور مقدمات سے متعلق معلومات کے لیے کمپیوٹرائزڈ مشینیں نصب کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولت مرکز میں سائلین اپنے مقدمات کی تاریخِ سماعت، متعلقہ بینچ اور دیگر دستیاب معلومات حاصل کرسکیں گے، جبکہ پہلی مرتبہ عدالت آنے والے شہریوں کو بھی ضروری رہنمائی فراہم کی جائے گی۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عدالتی نظام میں بنیادی سہولیات، انتظامی امور اور سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت کے احاطے میں غیر متعلقہ افراد کی غیر ضروری آمدورفت روکنے اور مؤثر حفاظتی انتظامات یقینی بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے عوامی سہولت مرکز کے قیام میں تعاون پر چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے ججز، بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، وکلا، عدالتی عملے، حکومت بلوچستان، محکمہ مواصلات و تعمیرات اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد عدالت اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور سائلین کو ایک منظم، باوقار اور عوام دوست عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے۔دریں اثناء چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی سہولت مرکز کا قیام انصاف کو ہر شہری کی دسترس میں لانے کی جانب اہم قدم ہے۔ ٹیکنالوجی اور جدید بنیادی ڈھانچہ عدالتی اصلاحات کا ذریعہ ہیں، تاہم ان کا مقصد عدالتی عمل کو تیز، شفاف، قابل رسائی اور عوام دوست بنانا ہے۔عوامی سہولت مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور بلوچستان ہائیکورٹ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فاصلے، معلومات کی کمی اور دیگر عملی مشکلات عام شہری کے لیے انصاف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اس لیے عدالتی اداروں میں شہریوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی اصلاحات صرف ٹیکنالوجی یا عمارتوں سے ممکن نہیں، بلکہ بینچ اور وکلا کو مل کر نظام انصاف میں بہتری کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں قائم سہولت مرکز کسی ایک فرد کا منصوبہ نہیں بلکہ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی پالیسی کا حصہ ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سہولت مراکز کا دائرہ ہائیکورٹس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ضلعی اور تحصیل کی سطح تک بھی وسعت دی جانی چاہیے تاکہ شہریوں کو اپنے قریب بنیادی عدالتی سہولیات اور رہنمائی دستیاب ہو۔انہوں نے بتایا کہ انصاف تک رسائی فنڈ کے تحت ملک بھر میں چار بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جارہی ہے، جن میں بلاتعطل بجلی یا شمسی توانائی، بلاتعطل انٹرنیٹ، خواتین کے لیے مناسب سہولت اور صاف پینے کا پانی شامل ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے بلوچستان کی عدلیہ اور وکلا کی خدمات کو سراہتے ہوئے عدالتی فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے ججز اور وکلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کو حقیقی خراج عقیدت قانون کی حکمرانی اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی سہولت مرکز کا مقصد عدالت اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا اور عام آدمی کے لیے انصاف کے حصول کو مزید آسان بنانا ہے۔
عوامی سہولت مرکز انصاف کو ہر شہری کی دسترس میں لانے کی جانب اہم قدم ہے، چیف جسٹس پاکستان
32











