حملے دوبارہ شروع، ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملے کی تصدیق کردی

29

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر داغے گئے ایرانی میزائل تباہ کیے جانے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے ایک بیان جاری کر کے ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی ایروسپیس فورس کے بہادر جوانوں نے چند گھنٹے قبل اردن میں واقع امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چار روز سے ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست حملے رکے ہوئے تھے تاہم بدھ کی صبح سینٹکام نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ’اچانک حملے کی کوشش‘ کی لیکن امریکی افواج ’چوکنا‘ تھیں اور داغے گئے تمام میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ حملہ منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بج کر 45 منٹ پر کیا گیا تاہم تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ہدف کون سی جگہیں تھیں۔

دوسری جانب سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی افواج نے عراق میں ’ایران نواز شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی ہدایت پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔

پینٹاگون کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے کم از کم 624 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ان میں سے 417 اہلکار آپریشن ایپک فیوری کے دوران زخمی ہوئے، جو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں