میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی سیاست ہمارے لئے مشعل راہ ہے ،ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

69

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنمائوں ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے کہا ہے کہ میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی سیاست ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔اس وقت بلوچستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے ہم نے ہمیشہ ملک میں جمہوری اداروں کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے صوبے میں اغواء برائے تاوان ،لاپتہ افراد کی بازیابی، سڑکوں کی بندش روز کا معمول بن چکی ہے ان حالات میں قومی قیادت ہی قوموں کا سہارا بنتی ہے بلوچستان کو ایک کالونی کی طرح دیکھ کر اس کے ساحل اور وسائل کو چھینا جارہا ہے ہم جیسی جماعتیں دو طرفہ مشکلات کا شکار ہیں مشروم سیاسی قیادت کو لاکر حالات مزید خراب کئے گئے سیاسی جماعتوں کو منظم انداز میں اپنا کردار ادا کرکے ان حالات کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ اس افرا تفری کے ماحول کو ختم کیا جاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور ان کے فرزند میر حاصل خان بزنجو کی یاد میں سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، چیئرمین محمد اسلم بلوچ، میر رحمت صالح بلوچ، ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر شاوس بزنجو، خیر جان بلوچ، بوہر بلوچ ، رجب علی رند، چنگیز حئی بلوچ، ڈاکٹر رمضان علی ہزارہ، فدا دشتی، علی احمد لانگو، خیر بخش بلوچ، حاجی عطاء محمد بنگلزئی، یاسمین لہڑی، ڈاکٹر سرفراز خان ،فریدہ بلوچ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ پارٹی کے رہنمائوں نے بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی سیاسی قومی جدوجہد اور سیاسی بصیرت دور اندیشی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں عظیم شخصیات نے جمہوریت کے استحکام، آئین کی حکمرانی،پارلیمان کی بالادستی،آزادی اظہار رائے کو ہی ملک کی بقا و ضامن قرار دیتے ہوئے دونوں عظیم باپ بیٹے نے ملک اور بلوچستان کے حالات کی حقیقی معنوں میں نشاندہی کی اور طاقتور طبقے کو خبردار کیا کہ عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے بصورت دیگر حالات کنڑول سے نکل جائیں گے۔
مقررین نے کہا کہ ملک فیض محمد یوسفزئی ،بابو کریم شورش ،گل خان نصیر ہمارے اکابرین تھے قلات اسٹیٹ کنونشن کو جس طرع سرداروں و نوابوں نے سبوتاژ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔مقررین نے کہا کہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف نیپ قیادت جیلوں میں تھی اور ان کو قلی کیمپس میں رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔میر غوث بخش بزنجو ،محمد حسین عنقا ،گل خان نصیر خان شہید نے 20 سے 25 سال قید و بند میں گزارے ۔میر حاصل خان بزنجو کے ساتھ سیاسی سفر بڑا خوبصورت رہا وہ لیڈر بھی تھے اور کارکن بھی۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے ان کو میر حاصل خان بزنجو سمیت دیگر کو مدعو کیا اور وہاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے قائدین سمیت ہزاروں لوگ تھے جب اسٹیج سے میر حاصل بزنجو کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ میر غوث بخش بزنجو کے فرزند ہیں تو اسٹیج کے قائدین سمیت پورا ہال نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔
مولا بخش دشتی ،میر حاصل بزنجو ،ڈاکٹر یاسین بلوچ اور ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ عظیم رہنما تھے۔ان کی سیاسی جدوجہد تاریخی ہے ۔مقررین نے کہا کہ آج لاپتہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے تشدد شدہ لاشیں کثرت سے مل رہی ہیں دوسری طرف اغوا برائے تاوان کی شرح بڑھ رہی ہے شاہراہیں بند اور ٹرالرز کو جلایا جارہا ہے کاروبار بند ہوگئے ہیں۔بلوچستان کو کہاں لے جایا جارہا ہے مشکل حالات میں قومی قیادت قوموں کو سہارا دیتی ہے لیکن اس وقت بلوچستان کو کالونی کی طرز پر دیکھا جارہا ہے عوام کی حق حاکمیت کو چھینا گیا۔ساحل و وسائل کو لوٹا جارہا ہے ناانصافیوں کا خاتمہ ضروری ہے عوام اور قومیتوں کا احترام ہی معاملات کو درست کرسکتا ہے۔مقررین نے کہا کہ کارکن پارٹی تنظیم کو منظم کریں اکابرین کے نقش قدم پر عمل پیرا ہوکر سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔نظامت کے فرائض حاجی عبدالصمد بلوچ اور سعید سمالانی نے سر انجام دئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں