وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی و سفارتی کامیابی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے واضح کردیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت کے لیے قانونی طور پر پابند ہے۔ معاہدے میں ترمیم یا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے نئے معاہدے کے ذریعے ممکن ہے۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے مختلف جواز عالمی ثالثی عدالت نے تسلیم نہیں کیے۔ سندھ طاس معاہدے کا فیصلہ پاکستان کے دیرینہ آبی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ فیصلے سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصول مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر پاکستان کی درخواست پر عبوری اقدامات کی منظوری بھی اہم پیش رفت ہے، بھارت کو رتلے منصوبے میں مخصوص حصوں پر مقررہ سطح سے زیادہ کنکریٹنگ سے روکا گیا ہے، جبکہ رتلے منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں تبدیلیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنا بھی بھارت پر لازم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور مذاکراتی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ اس اصول کی فتح ہے کہ بین الاقوامی معاہدے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیے جاسکتے۔ انصاف غالب آ گیا، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے قانونی مؤقف کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور سفارتی فورم پر مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی و سفارتی کامیابی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
38











