صحبت پور کی بیٹی آکسفورڈ، کوہلو کی بیٹی آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ پہنچ گئی، غربت کو خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے،وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

41

حکومت بلوچستان کی بینظیر بھٹو اسکالرشپ نے غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے اور بلوچستان کی دو بیٹیوں نے عالمی جامعات تک رسائی حاصل کرکے صوبے کا نام روشن کیا ہے۔ صحبت پور سے آکسفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ، اور کوہلو سے یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ، آسٹریلیا، تک بلوچستان کی دو بیٹیوں کا تاریخی سفر صوبے کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن بن گیا ہے۔ بلوچستان کے دور افتادہ علاقے صحبت پور سے تعلق رکھنے والی ماہرہ محمود کی آکسفورڈ یونیورسٹی تک رسائی صوبے کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہے، جبکہ پسماندہ علاقے کوہلو سے تعلق رکھنے والی حمیرہ یونس بھی بینظیر اسکالرشپ کے تحت یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ، آسٹریلیا، پہنچ گئی ہیں۔ طالبہ ماہرہ محمود نے کہا کہ اگر اسکالرشپ نہ ملتی تو فیس کی وجہ سے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب کبھی پورا نہ ہو پاتا۔ آج میں اپنا خواب جی رہی ہوں اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سمیت ان تمام لوگوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس اقدام کو عملی جامہ پہنایا۔
انہوں نے کہا کہ لیڈی مارگریٹ ہال کا حصہ ہونا ان کے لیے باعثِ فخر ہے، کیونکہ یہ وہی تاریخی کالج ہے جس سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی وابستگی رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دونوں طالبات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری قابلِ فخر بیٹیاں ہیں، آپ کی کامیابیاں بلوچستان کے ہر نوجوان اور ہر بیٹی کے روشن مستقبل کی امید ہیں۔ بلوچستان کی ایک قابلِ فخر بیٹی صحبت پور سے آکسفورڈ پہنچ گئی، جبکہ دوسری کوہلو سے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ پہنچ گئی؛ یہی وہ بلوچستان ہے جہاں ہم غربت کو خوابوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ ہم نے اپنا وعدہ پورا کردیا، بلوچستان کے غریب اور متوسط طبقے کے بچے بھی اب وہاں تعلیم حاصل کریں گے جہاں صاحبِ حیثیت خاندانوں کے بچے پڑھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کی قابلیت، محنت اور صلاحیت سے طے ہو۔ صحبت پور کی ماہرہ محمود اور کوہلو کی حمیرہ یونس کی کامیابی اس عزم کا اظہار ہے کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں کی بیٹیاں بھی دنیا کی صفِ اول کی جامعات میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کے کسی باصلاحیت نوجوان کا خواب صرف اس لیے ادھورا نہ رہ جائے کہ اس کے خاندان کے پاس تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے وسائل نہیں ہیں۔ بینظیر اسکالرشپ محض مالی معاونت نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ترقی، خود اعتمادی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا ایک نیا راستہ ہے۔ بلوچستان کی بیٹیوں کی کامیابی پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے، اور ہم تعلیم کے ذریعے ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں ہر بچے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں