بلوچستان میں گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی تنظیم نو اور اصلاحات کا فیصلہ، یکساں نوعیت کے فرائض انجام دینے والے محکموں کے انضمام اور غیر ضروری افرادی قوت میں کمی کے لیے سفارشات طلب، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کے اجلاس میں متعدد محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مختلف محکموں میں غیر ضروری بھرتیوں اور غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے وسائل کی ایک ایک پائی قومی امانت ہے، سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سرکاری محکموں میں اصلاحات ناگزیر ہیں، عوام کو بہتر اور مؤثر خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ صوبے کے وسائل کا بڑا حصہ غیر ترقیاتی اخراجات پر صرف ہو رہا ہے
، سرکاری محکموں کو بھرتیوں کی فیکٹریاں بنا دیا گیا ہے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبے محکمے عوام کو مطلوبہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں، یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگ ہیں، لاہور سے آئے کسی پنجابی کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے۔ بلوچستان کی بہتری کے لیے سخت مگر درست فیصلے کرنا ہوں گے، اصلاحات کے لیے کڑے اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تمام سیکرٹریز کو محکمہ جاتی اصلاحات کے لیے جامع سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس کل بھی جاری رہے گا اور نتیجہ خیز تجاویز مرتب کی جائیں گی۔
گورننس کی خراب صورتحال کے ذمہ دار باہر سے آنے والے نہیں، اپنے ہی لوگ ہیں، لاہور سے آئے کسی پنجابی کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
43










