وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی یوم خواندگی پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی صرف پڑھنے لکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ بچوں کے روشن مستقبل، معاشرتی ترقی اور مضبوط و خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے تعلیم کو اولین ترجیح بناتے ہوئے تعلیمی نظام کی بہتری اور اسکولوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں بلوچستان کے 3,800 سے زائد غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جبکہ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2,000 سے زائد نئے اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 1,800 اسکولوں کے قیام اور 3,000 موجودہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی دور کرنے کے لیے 15 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیاں میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت کی گئی ہیں۔ اساتذہ کی دستیابی سے تعلیمی اداروں کی استعدادِ کار میں اضافہ اور بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت گزشتہ دو برسوں میں مختلف اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے 23,520 وظائف دیے گئے۔ نویں سے دسویں جماعت تک 1,500 اور شہید بینظیر اسکالرشپ برائے میٹرک ضلعی پوزیشن ہولڈرز کے تحت 969 وظائف دیے گئے۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ اوّل کے 1,650، ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کے 2,431 اور ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے 552 وظائف فراہم کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے باہر بی ایس کے لیے 4,682 جزوی وظائف اور کیڈٹ ایکسیلنس اسکالرشپ پروگرام کے تحت 150 وظائف دیے گئے۔ ٹرانس جینڈر طلبہ کے لیے شہید بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام کے تحت 60 وظائف فراہم کیے گئے، جبکہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں بی ایس کے لیے 9,451 جزوی وظائف فراہم کیے گئے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سول شہداء کے بچوں کے لیے شہید بینظیر بھٹو اسکالرشپ کے تحت 590 مکمل وظائف فراہم کیے گئے۔ پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت 898 جبکہ صادق پبلک اسکول کے لیے 300 وظائف دیے گئے۔ بیکن نیشنل یونیورسٹی اسکالرشپ کے تحت 30 جبکہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ و میتھمیٹکس (STEM) میں بیرونِ ملک پی ایچ ڈی کے 6 وظائف دیے گئے۔ آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت ایک جبکہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اسکالرشپ کے تحت 64 وظائف فراہم کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں ایل ایل ایم کے لیے وکلاء فنڈ پروگرام کے تحت 16 وظائف دیے گئے، جبکہ شہید پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لیے وکلاء فنڈ پروگرام کے تحت 161 وظائف فراہم کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے لیے تعلیم محض ایک شعبہ نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ہماری منزل واضح ہے کہ بلوچستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی بحالی، نئے تعلیمی اداروں کے قیام، تعلیمی انفراسٹرکچر کی توسیع اور اساتذہ کی بھرتیوں کے سلسلے کو مزید وسعت دیں گے۔ بلوچستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کا حق دلانا اور نوجوان نسل کو بااختیار بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، بااختیار اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔










