کوئٹہ:امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ آئین پرعمل درآمدکرکے ہی قوموں کوجائزحقوق مل سکتے ہیں۔انصاف عدل وانصاف کاحقیقی نظام ہے نفاذ اسلام کیلئے پاکستان بناتھالیکن اسلامی نظام وآئین پاکستان سے روگردانی کی جارہی ہے۔بدقسمتی سے آج آئیں معطل،انصاف مشکل ومہنگااورعوام کی بات سننے والانہیں بلوچستان کے عوام کوامن وحقوق دینے ہوں گے آج بلوچستان بارودپرکھڑا،حالات سے حکمرانوں نے آنکھیں پھیرلی ہیں۔7اگست بلوچستان کے 22اضلاع میں پہیہ جام ہڑتال عوام کاجماعت اسلامی پراعتمادکامظہرہے حل صرف جماعت اسلامی ہے عوام نے اعتمادکیاتومسائل حل انصاف کابول بالااورامن بحال ہوگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے نے بلدیہ ریسٹ ہاس حب میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان14اگست 1947 کو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا تھا اور اس وقت یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی اصولوں پر مبنی فلاحی نظام، انصاف اور مساوات قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سابق ریاستوں،جن میں لسبیلہ، قلات، مکران اور خاران شامل ہیں، نے بھی اسی امید کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے تقریبا 80 برس گزرنے کے باوجود عوام کو وہ نظامِ انصاف اور اسلامی فلاحی ریاست میسر نہیں آ سکی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ سیاسی و انتظامی نظام عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہا ہیجبکہ بدامنی، بے روزگاری، کرپشن اور معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت اور جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوری کے فیصلے کے مطابق موجودہ نظام میں اصلاحات اور عوامی حقوق کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تشدد یا مسلح راستہ اختیار کرنے کے بجائے جمہوری اور آئینی جدوجہد کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرحدی راستوں کی بندش سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق ان مسائل کے خلاف جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے حصول ترقی امن اورخوشحالی کیلئے تمام آئینی جمہوری راستے اپنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ 8 اگست2016 کے سانحہ کو برسوں گزر گئیمتعدد رپورٹس اور تحقیقات کے باوجود آج بھی اس المناک واقعے کے قاتل نامعلوم ہیں۔میں شہید ہونے والے وکلا اور ان کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتا ہوں اور انصاف کے منتظر خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔انہوں نے کہا کہ7اگست بروزجمعہ کو بلوچستان بھر میں کامیاب احتجاج ہوا۔انہوں نے بتایا کہ عوام کے حقوق کے حصول ترقی امن وخوشحالی کیلئے حب سیگوادر،کوئٹہ سیچمن،ژوب اور دیگر شہروں میں احتجاج کیاجائیگا۔مولاناہدایت الرحمن نے خضدار میں بی بی اسما کے والد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس واقعے کے خلاف اسمبلی سمیت ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیگفتگو کے اختتام پر حب کے سینئر صحافی،روزنامہ انتخاب کے بیورو چیف عزیز لاسی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیاجبکہ مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا بھی کی گئی#/s#
آئین پر عملدرآمد ہی قوموں کو جائز حقوق کی ضمانت دے سکتا ہے، بلوچستان کے عوام کو امن اور حقوق دینا ہوں گے، مولاناہدایت الرحمن
38














