وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے ہمیشہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا کہا،جنگی صورتحال کے دوران میں اپنے کیے گئے فیصلوں پر قائم ہوں، جنگ سے پہلی لیوی 84 روپے تھی،آج 66 روپے ہے۔
تفصیلات کے مطابق علی پرویز ملک کا کہناتھا کہ ایران امریکا جنگ بندی سے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوئی ہیں،اپریل میں ڈیزل کی قیمت 520 روپے اور پیٹرول کی قیمت 460 روپے تھی،ڈیزل میں 200 روپے اور پیٹرول میں 150 سے 155 روپے ریلیف دے چکے، خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 70 فیصد پیٹرول درآمد کرتے ہیں،خام تیل سے ہم مقامی سطح پر 25 سے 30 فیصد پیٹرول بنا سکتے ہیں، آج حکومت نے لیوی 66 روپے فی لیٹر لیوی لگائی ہوئی ہے، ہم نے جنگی صورتحال میں ایران،امریکا سے مدد لیکر سستے تیل کے جہاز منگوائے، ہم نے سستے تیل کے جہاز منگوا کر منافع کیا،صوبائی حکومتوں سے مددلی، ہم نے پہلے بھی خام تیل سے قیمتوں کو نہیں جوڑا تھا،نہ آج جوڑ رہاہوں۔
علی پرویزملک کا کہناتھا کہ آج پیٹرول کی عالمی منڈی میں قیمت20ڈالر فی بیرل زیادہ ہے،جنگ سے پہلی لیوی 84 روپے تھی،آج 66 روپے ہے،اس کے باوجود قیمت زیادہ ہے، کسی جگہ پر کوئی وعدہ خلافی نہیں ہوئی،نہ اپنے وعدے سے پیچھےہٹ رہے ہیں، عالمی منڈی میں قیمت کم ہو گی تو عوام کو ریلیف فراہم کر دیں گے،یہ چیزغلط ہے وزیراعظم نے کسی سے کوئی ملاقات کی ہے اور دباؤ میں آئے، انہوں نے مجھ سےملاقات کی،کسی کے دباؤ میں نہیں آتا، میں کسی کے کہنے پر کوئی فیصلہ نہیں کرتا، جنگ سے پہلے پیٹرول کے پلیٹس کا ریٹ 76 ڈالرفی بیرل تھا، آج پیٹرول کے پلیٹس کا ریٹ 92 ڈالر پر ہے،اس لئے پیٹرول کی قیمت کم نہیں ہوئی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہے،اس لئے مقامی قیمت زیادہ ہے۔














