امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی برتری

48

امریکا میں انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ مختلف ریاستوں سے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیموکریٹس نے ری پبلیکنز سے سینیٹ کا کنٹرول چھین لیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 53 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ری پبلیکین نے 42 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 435 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں ابتدائی نتائج کے مطابق 225 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 119 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔

گورنرز کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو 24 جبکہ ریپبلکنز کو 15 نشستیں مل گئی۔ 11 ریاستوں کے گورنرز کے انتخابی نتائج کا انتظار ہے۔

امریکی عوام نے انتہاپسندی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایوانِ نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر حکیم جیفریز نے پُرجوش خطاب میں کہا کہ آج سے امریکا کی شاندار واپسی کا آغاز ہو رہا ہے۔ امریکی عوام نے انتہاپسندی اور بدعنوانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات بڑی تبدیلی کا پیغام ہیں۔ ہم ملک بھر کی تمام برادریوں کے حقوق کیلئے لڑیں گے۔ حکیم جیفریز نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم صدر۔ نائب صدر یا سپریم کورٹ کیلئے نہیں بلکہ امریکا کے عوام کیلئے کام کرتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان

فاکس نیوز کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابی نتائج تسلیم کروں گا، ڈیموکریٹس کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد دیتا ہوں، ڈیموکریٹس نے انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس 11 سال سے ایسی کامیابی کے منتظر تھے، بالآخر انہیں کامیابی مل گئی، انتخابی نتائج کو اپنی قیادت کے خلاف عوامی فیصلہ نہیں سمجھتا، ڈیموکریٹس کی کامیابی کو اپنی ذاتی شکست نہیں سمجھتا، ہم نے گزشتہ دو سال میں تاریخی کارکردگی دکھائی ہے۔ میرے دورِ صدارت کے گزشتہ دو سال امریکی صدارتی تاریخ کے بہترین دو سال رہے ہیں۔

مسلمان امیدواروں کی نمایاں کامیابیاں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں اب تک 6 مسلمان امیدواروں کی کامیابی ہوئی ہے۔ نیوجرسی سے ڈیموکریٹک امیدوار آدم حماوی پہلی بار کانگریس کے رکن منتخب ہوگئے۔

مینیسوٹا سے الہان عمر، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور انڈیانا سے آندرے کارسن نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب نے 57 فیصد جبکہ لطیفہ سائمن نے 80 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

عبدل السید پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب

امریکی انتخابات میں ایک اور تاریخ رقم ہوگئی، عبدل السید پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے۔ عبدل السید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے دی۔

جیت کے بعد کارکنوں سے خطاب میں عبدل السید نے کہا کہ مجھے اپنی خدمت کیلئے واشنگٹن بھیجنے پر آپ سب کا شکریہ، ریپبلکنز نے سب سے پہلے میرے نام کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، میرے نام اور مذہب کو ایشو بنانا ریپبلکنز کے کوئی کام نہ آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں