امریکا نے ایران کے اہم ترین جزیرے ’قشم‘ پر حملہ کردیا

40

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے دو نومبر کی رات ایران کے اسٹریٹجک جزیرے ’قشم‘ کو فوجی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے، جو تہران کے خلاف خاموشی سے جاری امریکی عسکری آپریشنز کے سلسلے کی تازہ ترین پیش رفت ہے۔

یہ حملے آج ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے چند گھنٹے قبل ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی سطح پر نئی جنگ کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے سفارتی پیشرفت کا اشارہ دے رہے ہیں۔

تاہم امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف تمام عسکری و سفارتی اختیارات پر مسلسل غور کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کے عوامی بیانات اور پسِ پردہ جاری عسکری اقدامات میں نمایاں تضاد موجود ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ قشم آئی لینڈ پر کی جانے والی کارروائی دراصل پچھلے چند ہفتوں کے دوران کی جانے والی ان محدود اور خفیہ فوجی ضربوں کا حصہ ہے جن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی حکام نے ان اقدامات کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش ایرانی دھمکیوں کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ان عسکری کارروائیوں کو جان بوجھ کر پسِ پردہ رکھا تاکہ مارکیٹ اور خطے میں یہ تاثر نہ جائے کہ امریکا فوری طور پر بڑے پیمانے کی جنگ شروع کرنے جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے بھی دو نومبر کو قشم آئی لینڈ پر شدید دھماکوں کی رپورٹ دی ہے، جبکہ پینٹاگون نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے سینٹرل کمانڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قشم جزیرہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری شاہراہ ’آبنائے ہرمز‘ کے دہانے پر واقع ہے، جہاں وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی بڑی زیرِ زمین میزائل تنصیبات، بحری اڈہ اور پانی کو میٹھا بنانے کا مرکزی پلانٹ موجود ہے۔

غیر منافع بخش تنظیم ’یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران‘ کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی کے مطابق امریکی حملوں کا مقصد تہران کو تجارتی بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں امریکی قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس سے قبل بھی امریکی فورسز کی جانب سے ایران کے میزائل لانچنگ پیڈز، ایک بادبانی کشتی (ڈھو) اور امریکی بحری محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک تجارتی جہاز پر محدود حملے کیے جا چکے ہیں۔

عسکری کشیدگی کے باوجود واشنگٹن اور تہران کی جانب سے سفارتی اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے نجی و ایٹمی پروگرام سے متعلق مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی کہا کہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران کے ساتھ کسی نئی جنگ کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔

دوسری طرف تہران میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دو نومبر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے اور ایران کے مطالبات بالکل واضح اور معقول ہیں۔

تاہم ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سمیت دیگر حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے جنگ میں پہل کی تو تہران مشرقِ وسطیٰ کے اندر اور باہر شدید جوابی کارروائی کرے گا۔

معاشی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ قشم آئی لینڈ پر حملوں کے باوجود تہران کی جانب سے فی الحال کسی بڑے ڈرامائی جوابی ردِعمل کا امکان کم ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا محض ڈرونز یا میزائلوں کو روکنے کے بجائے اب ساحلی پٹی پر واقع ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا کر آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکا نے خطے میں اضافی میزائل ڈیفنس اور گولہ بارود بھی منتقل کر دیا ہے تاکہ ممکنہ طور پر وسیع تر آپریشنز کی تیاری مکمل رکھی جا سکے، تاہم دونوں فریقین اس وقت بحری گزرگاہ کے تنازع پر اپنے تزویراتی تحفظات کے تحت محدود عسکری حد کے اندر رہتے ہوئے پیش رفت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں