ملک بھر میں 9 ماہ کے دوران5143 آپریشنز، 2410 دہشت گرد ہلاک، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش

48

سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رواں سال میں ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف 5143 ہزار آپریشنز کیے، جس کے نتیجے میں 2410 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

رواں سال کے پہلے ماہ کے دوران انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی، وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریری جوب میں بتایا کہ یکم جنوری سے 29 ستمبرتک 5143 آپریشنز کئے گئے۔

محسن نقوی نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں، 5143 آپریشنز میں 2410 دہشت گرد ہلاک،806 زخمی جبکہ 3518 گرفتار ہوئے تاہم ان لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق 5 سال میں سوا 3 لاکھ افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ ہوئے، لاکھ 26ہزار 341 افغان شہریوں کے پاکستانی شناختی کارڈز منسوخ کئے۔ ان افغان شہریوں کے شناختی کارڈذ کی قانونی حیثیت مشکوک تھی۔

قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ وفاق اور صوبوں میں آن لائن خطرات سے نمٹنے کا کوئی منظم یا مربوط نظام نہیں، اداروں اور اوپن انٹیلی جنس سیلز کو تربیت یافتہ تجزیہ کاروں کی کمی کا سامنا ہے، سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے پاس 24 گھنٹے نگرانی کی صلاحیت بھی نہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق نیکٹا نے 27-2026 میں 2 ارب 98 کروڑ سے زائد کے فنڈز مانگے تھے، نیکٹا کو رواں سال کیلئے صرف 1 ارب 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے، نیکٹا انسداد دہشت گردی کا ایک قانونی ادارہ ہے، نیکٹا کے پاس گرفتاری یا قانون نافذ کرنے کے اختیارات نہیں، نیکٹا کو اب نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم ڈویژن بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں