ٹیرف پالیسی میں درآمدی محصولات کے اعدادوشمار پر سوالات

3

اسلام آباد: حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی میں پاکستان کے درآمدی محصولات کے اعدادوشمار اور جنوبی ایشیاکے دیگر ممالک سے ان کے موازنے پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
صنعتکار عامر اللہ والا نے الزام عائدکیا ہے کہ پالیسی میں پاکستان کے ٹیرف کی شرح 18۔54 فیصد ظاہرکرنے کیلیے اضافی کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو بھی شامل کیاگیا، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر علاقائی ممالک کیلیے صرف کسٹمز ڈیوٹی کے اعدادوشمار استعمال کیے گئے۔
پاکستان سوسائٹی آف ڈیولپمنٹ اکانومسٹس کی 39ویں بین الاقوامی کانفرنس اور سالانہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے عامر اللہ والا ٰ نے کہاکہ عالمی تجارتی تنظیم کے اعدادوشمارکے مطابق 2023 میں پاکستان کی سادہ اوسط لاگو کسٹمز ٹیرف کی شرح 10۔3 فیصد تھی، جو بھارت کی 17فیصداور بنگلہ دیش کی 14۔1 فیصد شرح سے کم ہے۔
ان کے مطابق مختلف نوعیت کے محصولات کو صرف پاکستان کے اعدادوشمار میں شامل کرکے علاقائی موازنہ غیر مساوی بنیادوں پرکیاگیا۔عامر علویٰ کاکہنا تھاکہ قومی ٹیرف پالیسی کی بنیادی دلیل، یعنی پاکستان میں جنوبی ایشیاکے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ درآمدی محصولات ہونے کا دعویٰ، یکساں پیمانے پر مبنی نہیں۔
ان کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم کے اعدادوشمار میں پاکستان کی سادہ اوسط ٹیرف شرح 10۔3 فیصدہے، جبکہ پالیسی میں اضافی کسٹمزڈیوٹی کی 3۔65 فیصداور ریگولیٹری ڈیوٹی کی 4۔57 فیصدشرح شامل کرکے مجموعی شرح 18۔54 فیصدظاہرکی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں