پاکستان میں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں،طاہر بزنجو

61

خضدار : نیشنل پارٹی کے سنٹرل کمیٹی کے رکن سابق سینیٹر میر طاہربزنجو نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آپ کے ملک میں سیاسی و معاشی بحران حل ہونے کے بجائے مزید گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق اس وقت پاکستان میں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب طرزِ حکمرانی شاہانہ ہے۔ ملکی اشرافیہ سالانہ 15 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی مراعات لیتی ہے۔ رشوت ستانی اور کرپشن اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ افسران ہوں یا نام نہاد عوامی نمائندے، سب کو ناجائز ذرائع سے پیسہ کمانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔تشویشناک بات تو یہ ہے کہ ایک طرف بھوک، بے روزگاری اور بیرونی قرضے اپنے بلند ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں، تو دوسری طرف آپ کے دو صوبوں میں صرف آگ برس رہی ہے، جہاں حکومتی رِٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔آپ کے ملک میں جمہوریت کے نام پر امیریت مسلط کی گئی ہے، اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں 40 لاکھ موبائل فونز کو سنا اور مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ حکومت مخالف قوتوں کو خوف زدہ کیا جا سکے۔آپ کے کنٹرولڈ مین اسٹریم میڈیا میں بے مقصد اور فضول موضوعات اس لیے زیرِ بحث لائے جاتے ہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔ہماری بات یہ ہے کہ آخر کب تک ملک خیرات اور قرضوں پر چلے گا؟ کیا پاکستان ان دشوار حالات اور متعدد بحرانوں سے نکل پائے گا؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں