کوئٹہ: بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر و وزیرِ آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر بلوچستان کے گرین بیلٹ پٹ فیڈر کینال اور کھیر تھر کینال میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ گزشتہ روز سکھر کا دورہ کیا۔ وفد میں صوبائی وزراء میر محمد سلیم کھوسہ، میر محمد خان لہڑی اور سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمان بلوچ شامل تھے۔ وفد کے دورے کا مقصد پٹ فیڈر کینال اور کھیر تھر کینال میں حالیہ ہانی کی کمی پر حکومت سندھ کے متعلقہ حکام سے بات چیت کرنا تھا۔ وفد نے سکھر میں محکمہ آبپاشی سندھ کے متعلقہ حکام سے طویل بات چیت کے بعد کراچی پہنچ کر صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو اور سیکرٹری آبپاشی ظریف احمد کھیوڑو سے باقاعدہ سرکاری مذاکرات کیے۔ اس موقع پر وفد کے دیگر شرکاء میں بلوچستان سے صوبائی وزیر سردار فیصل خان جمالی، چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی، کوآرڈینیٹر سمیع بلوچ اور ایکسیئن پٹ فیڈر فرید احمد پندرانی شامل تھے۔ مذاکرات میں بلوچستان کے وفد نے واضح موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت محکمہ آبپاشی 1971 کے معاہدے کے مطابق بلوچستان کے حصے کا پانی فراہم کرے۔ معاہدے کے تحت پٹ فیڈر کینال کے لیے 6700 کیوسک اور کھیر تھر کینال کے لیے 2400 کیوسک پانی متعین ہے۔ پانی کی کمی سے ہمارا پورا علاقہ اور خصوصاً زمیندار و کسان بھائی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ دونوں صوبوں کے اعلیٰ حکام کے مابین چار گھنٹوں سے زائد طویل مذاکرات کے بعد صوبائی وزیر آبپاشی سندھ جام خان شورو نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان کے حصے کا پانی ہر صورت میں جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پٹ فیڈر کینال میں شارٹ فال پورا کرنے کے لیے 700 کیوسک جبکہ کھیر تھر کینال میں 1000 کیوسک اضافی پانی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ دونوں وفود نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ گفت و شنید اور باہمی مشاورت کے ذریعے درپیش مسائل کے حل کو یقینی بنائیں گے۔ دریں اثناء صوبائی وزیر جام خان شورو نے بلوچستان کے وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ بھی دیا۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ ہمیں بلوچستان کے مفادات شروع دن سے ہی عزیز ہیں۔ پانی کی کمی پر کسی قسم کی کوتاہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں بخوبی احساس ہے کہ پانی کی کمی سے لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت زمینداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وہ خود اس اہم مسئلے کے حل کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کر رہے ہیں۔ سکھر اور کراچی میں ان مذاکرات کا مقصد ہی عوام کو پانی کی کمی سے درپیش مشکلات کا حل ہے۔ میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ چند مفاد پرست عناصر حکومت میں رہتے ہوئے اپنی متاثرہ سیاسی ساکھ بچانے کے لیے جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے عوام سے گزارش کی کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ بلوچستان حکومت کو اپنے لوگوں کے مفادات انتہائی عزیز ہیں اور جلد پانی کی فراہمی سے چاول کی فصل سمیت دیگر ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیر آبپاشی سندھ کی بلوچستان حکومت کے وفد کو یقین دہانی
16













