زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنا، لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنا، قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے، نواب اسلم رئیسانی

39

کوئٹہ :چیف آف ساراوان سابق وزیرا علیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مستونگ اور بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں زمینداروں کے پھلدار باغات کاٹنا، لوگوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل کرنا اور ان کے گھروں و معاشی ذرائع کو تباہ کرنا، قبائل اور عام آدمی کو متنفر کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ محسوس ہوتا ہے ۔اپنے جاری کردہ ایکس پر ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ اَگر بے دخلی اور تباہی ہی مسئلے کا حل ہوتیں تو شمالی اور جنوبی وزیرستان، دیر بالا، دیر زیریں، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں گھروں اور کاروباری مراکز کو مسمار کرنے کے بعد آج مکمل امن قائم ہو چکا ہوتا۔ماضی کی ایسی فوج کشیوں کا نتیجہ امن کی بجائے تباہی، بے دخلی اور قبائل کی طویل دربدری کی صورت میں نکلا۔ فوج اپنے بارود سے جتنی بھی تباہی اور بربادی برپا کر ے، اپنی بندوق کے زور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن امن نہیں امن اور آشتی کا ماحول صرف سیاسی سوچ، سیاسی عمل، باعزت اور باوقار مکالمے سے ہی تشکیل پاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں