کوئٹ:امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں ایسا عادلانہ نظام چاہتے ہیں جس میں ہر شہری کو حقوق، انصاف اور تعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں۔قیام پاکستان کے لیے لوگوں نے انصاف اور اسلامی نظام کے قیام کی امید پر قربانیاں دی تھیں۔ہماری جدوجہد ایسے اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے لیے ہے جہاں کوئی بچہ تعلیم،عوام صحت کی سہولیات اورنوجوان روزگارسے محروم نہ رہے اور غریب خاندانوں کے بچوں کو بھی آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں۔بلوچستان میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کے باوجود 1350یتیموں کی کفالت میں1000بچوں کی کفالت پنجاب کے مخیرحضرات کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت فاو¿نڈیشن کے زیر اہتمام”تعلیم سب کے لیے“ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاتقریب میں الخدمت فاو¿نڈیشن وجماعت اسلامی کے زیرکفالت ومختلف اداروں میں پڑھنے والے خواتین وطلباءطالبات یتیم بچوں نے کثیرتعدادمیں شرکت کی۔بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے بچوں طلباء و اساتذہ میں انعامات بھی تقسیم کیے گیے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزیدکہاکہ بلوچستان کے بچوں کی منزل پہاڑ نہیں،ناخواندگی بے روزگاری بدامنی نہیں بلکہ تعلیم ترقی وخوشحالی اورامن وانصاف ہے۔ نوجوان کلاشنکوف،بے راہ روی چھوڑ کر قلم کتاب اٹھائیں، تعلیم حاصل کریں اور ترقی کے سفر میں شامل ہوں۔ اگر ملک میں حقیقی انصاف اور اسلامی اصولوں پر مبنی نظام ہوتا تو کسی نوجوان کو مایوسی کے باعث پہاڑوں کا رخ نہ کرنا پڑتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور بازاروں میں ظلم و ناانصافی کا راستہ روکا جائے اور نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جماعت اسلامی غریب عوام کی جماعت ہے، ہم محض جذباتی تقریروں پر نہیں بلکہ عملی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ وسائل جمع کرکے تعلیم سے محروم بچوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ الخدمت فاو¿نڈیشن قیام پاکستان کے بعد سے خدمت خلق کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ہم ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور کسی غریب بچے کو تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات کے لیے فلاحی اداروں کا محتاج نہ ہونا پڑے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستان نے سیاسی رہنماو¿ں اور صاحب ثروت افراد کو دعوت دی کہ وہ انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھیں۔ مقابلہ اس بات پر ہونا چاہیے کہ کون زیادہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے۔ بلوچستان کے مخیر حضرات اپنے غریب بھائیوں، یتیم بچوں اور مستحق خاندانوں کی مدد کریں اور تعلیم و صحت کے اداروں کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔ حکمرانوں کے کتوں کی خوراک لندن سے آتی ہےجبکہ بلوچستان کے غریب بچوں کے پاو¿ں میں جوتے تک نہیں۔ یہ صورتحال ہمارے حکمرانوں اور معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ ”پڑھتا بڑھتا بلوچستان“ مہم کے تحت 500 اسکول قائم کرنے کا ہدف لے کر آگے بڑھیں گے۔ بلوچستان کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ الخدمت فاو¿نڈیشن اس وقت 15ہزار بچوں اور بچیوں کو تعلیم فراہم کر رہی ہے، جبکہ جعفرآباد میں اسپتال،لسبیلہ میں آغوش سینٹرکی تعمیر سمیت دیگراضلاع میں بھی مختلف پراجیکٹس پربھی کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تقدیر بدلنے اور انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے کے لیے تمام طبقات کے تعاون کی ضرورت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتےنائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان و الحمدیونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر شکیل روشن،تعمیرنوٹرسٹ کے پروفیسر عابدمقصود،الخدمت فاو¿نڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی نے خطاب میں کہا کہ الخدمت فاو¿نڈیشن معاشرے کے لیے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں ملک بھر میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔بلوچستان کے مسائل کا حل تعلیم ہے۔مخلصانہ تعلیمی سماجی خدمات معاشرتی ترقی کی ضمانت ہے۔انہوں نے نوجوانوں اور خواتین پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمیت جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کو سمجھیں، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری حکومت بلوچستان عبدالفتح بھنگر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔حکومت دستیاب وسائل کے اندر تعلیم کے شعبے پر توجہ دے رہی ہے، تاہم تعلیمی ترقی کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ فلاحی اداروں،مخیر حضرات اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الخدمت فاو¿نڈیشن کے ایجوکیشن ڈائریکٹر قاضی عبدالرحمن نے کہا کہ بلوچستان میں الخدمت کے 13 چائلڈ پروٹیکشن سینٹرز کام کر رہے ہیں، جہاں تقریباً 600 طلبہ کو تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ ان میں سے سات سینٹرز کوئٹہ میں قائم ہیں، جہاں بڑی تعداد میں غریب اور یتیم بچے زیر تعلیم ہیں۔ الخدمت فاو¿نڈیشن100سے زائد طلبہ کو جامعات میں اسکالرشپس بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ مستحق طلبہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔
بلوچستان میں جماعت اسلامی غریب عوام کی جماعت ہے،مولاناہدایت الرحمن بلوچ
33










