تربت یونیورسٹی کی کارکردگی قابل فخر، طالبات کی اکثریت سماجی تبدیلی کی علامت ہے، گورنر بلوچستان

30

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف تربت مختلف حوالوں سے ایک قابل فخر اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر ابھری ہے۔ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں طلباء کی کل تعداد کا نصف سے زیادہ حصہ فیمیل اسٹوڈنٹس پر مشتمل ہے جو سماجی تبدیلی اور تعلیمی ترقی کی ایک طاقتور علامت ہے۔ ایک اور کامیابی جو خراج تحسین کی مستحق ہے وہ ہے یونیورسٹی کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں شاندار پیش رفت ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ یونیورسٹی آف تربت کا آئندہ پانچ سالہ منصوبہ بھی بہت واضح ہے اور اس نے اپنی رینکنگ اینڈ اسکورنگ کی کارکردگی کو %91.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے جس کا کریڈیٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم کے سر ہے تاہم یہ کامیابی کی آخری منزل نہیں ہے کیونکہ ایکسیلینس ایک مسلسل عمل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، وائس چانسلر تربت یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ ڈاکٹر ظہور بازئی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر عبدالصبور (تمغہ امتیاز)، ڈین فیکلٹی ڈاکٹر طاہر حکیم، رجسٹرار گنگوزار بلوچ، ڈائریکٹر ریاض احمد اور ڈائریکٹر اعجاز احمد سمیت تمام سینیٹ ممبرز موجود تھے۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی سینیٹ کی آئینی اور انتظامی پوزیشن کو واضح کرنا ضروری ہے۔ سینیٹ کو یونیورسٹی کے اندر وہی حیثیت حاصل ہے جو کابینہ کو حکومت میں حاصل ہے۔ یہ یونیورسٹی کا سب سے زیادہ قانونی فیصلہ ساز ادارہ ہے لہٰذا جب بھی سینیٹ مناسب غور و خوض کے بعد کسی فیصلے پر پہنچتا ہے تو مذکورہ فیصلہ حتمی ہو جاتا ہے اور اس پر عمل درآمد لازمی ہے۔ یہ ادارہ جاتی فریم ورک ہماری یونیورسٹیوں میں شفافیت، جوابدہی اور تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔
سینیٹ کے فیصلوں کا احترام درحقیقت قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی سالمیت اور علمی برادری کی اجتماعی حکمت کا احترام ہے۔ گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے اسٹوڈنٹس کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کی سیکھنے کی محبت اور کتاب دوستی ہے۔ اپنی تعلیم سے ذوق و شوق جاری رکھیں کیونکہ علم سب سے طاقتور سرمایہ کاری ہے جو آپ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ یونیورسٹی آف تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں