اگر کہو حالات ٹھیک ہیں تو یہ غلط ہوگا ،پورا پاکستان فکر مند ہے ، ریاستی ادارے، ایف سی، بلوچستان پولیس ایک ایک انچ کی حفاظت کررہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

17

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے حالات پرپاکستان بھر میں فکر ہے، اگرمیں کہوں حالات ٹھیک ہیں تویہ غلط ہوگا۔ میں اپنے لوگوں کو جھوٹ نہیں بولنا چاہوں گا۔

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان اور پاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم وملزوم ہیں، ریاستی ادارے، ایف سی، بلوچستان پولیس ایک ایک انچ کی حفاظت کررہے بلوچستان میں گورننس درست ہوئی ہے۔

سرفرازبگٹی نے کہا کہ 2018 کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہم نے اپیزمنٹ کرنی ہے، دنیاکی کوئی ایک ریاست بتادیں جنہوں نے دہشتگردوں سے اپیزمنٹ کی ہو، کالعدم ٹی ٹی پی کو لے کرآئے،کالعدم بی ایل اے کی اپیزمنٹ کی، ایسے ایسے لوگوں کو چھوڑا گیا جو دوبارہ دہشتگرد تنظیموں میں شامل ہوئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ میں ایک دن بانی پی ٹی آئی کے پاس گیا اور کہاآپ کیا کررہے ہیں، میں نے ان کو کہا یہ درست پالیسی نہیں ہے، بانی پی ٹی آئی نےکہامیں اینٹی وارہوں، میں نے کہا آپ ذاتی طور پر اینٹی وارہوسکتے مگر بطور وزیراعظم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار2 لوگ ہیں، اپیزمنٹ کی پالیسی بانی پی ٹی آئی نے کی، نیٹو نے افغان آرمی کو30 سال کیلئے تیار کیا مگر افغان نیشنل آرمی 30 گھنٹے بھی کابل کا دفاع نہ کرسکے، وہ سارا امریکی اسلحہ بلیک مارکیٹ میں میسرہوا، رانے وہ اسلحہ خرید کر دہشتگردوں کو دینا شروع کیا۔

سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے ہینڈلرز باہر بیٹھے ہیں، نوجوانوں کوبتانا ہےکہ آپ کوایک لاحاصل جنگ میں گھسیٹا جارہاہے، ایک سال میں ایک ہزار دہشتگرد مارے ہیں، بلوچستان میں کرپشن پہلے سے کم ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں