بلوچستان کے عوامی مسائل پر خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا، امیر مولانا عبدالواسع

39

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت صوبائی سیکرٹریٹ جناح ٹاو¿ن میں منعقد ہوا، جس میں صوبے کی موجودہ سیاسی، انتظامی اور تنظیمی صورتحال، مرکزی جماعتی فیصلوں پر عملدرآمد، اضلاع کی تنظیمی کارکردگی اور آئندہ کی سیاسی و جماعتی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں کی روشنی میں صوبے میں عملی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے اہم مشاورت اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ مختلف اضلاع کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز، تنظیمی مسائل اور جماعتی سرگرمیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام بلوچستان میں ایک منظم، فعال اور عوام سے جڑی ہوئی سیاسی و دینی جماعت کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہے گی
، موجودہ حالات میں جماعتی نظم و ضبط، کارکنوں کی تربیت اور عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل پر خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا، جمعیت علماءاسلام نے ہمیشہ عوام کے حقوق، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل اور بلوچستان کے جائز حقوق کے لیے اصولی مو¿قف اختیار کیا ہے اور آئندہ بھی ہر فورم پر بلوچستان کے عوام کی مو¿ثر ترجمانی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی سیاسی صورتحال نے صوبے کے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق، روزگار، امن، تعلیم، صحت اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان کے وسائل اور اختیارات کے حوالے سے کسی بھی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں صوبے کے عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام عوامی مینڈیٹ، جمہوری اقدار اور آئینی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عوام کے حقیقی مسائل کو ہر متعلقہ فورم پر اجاگر کیا جائے گا۔اجلاس میں صوبے بھر میں جماعتی اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال، منظم اور مو¿ثر بنانے کے لیے مختلف اضلاع میں ورکرز کنونشنز، تربیتی کنونشنز اور تنظیمی اجتماعات منعقد کرنے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ صوبائی امیر نے ضلعی تنظیموں کو ہدایت کی کہ وہ کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں اور عوامی مسائل کو جماعتی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کارکن جماعت کا اصل سرمایہ ہیں، اس لیے ان کی سیاسی، فکری اور تنظیمی تربیت کو خصوصی اہمیت دی جائے۔اجلاس میں مختلف اضلاع کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے تنظیمی امور میں موجود کمزوریوں اور رکاوٹوں کو دور کرنے، اضلاع کے درمیان رابطہ مزید مضبوط بنانے اور جماعتی سرگرمیوں میں تسلسل پیدا کرنے کے حوالے سے بھی اہم امور زیرِ بحث آئے۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ مرکزی اور صوبائی جماعتی قیادت کی ہدایات کو نچلی سطح تک مو¿ثر انداز میں پہنچایا جائے گا اور تنظیم کو مزید فعال بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں جے یو آئی بلوچستان کے نئے صوبائی سیکرٹریٹ کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور مختلف آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی امیر نے کہا کہ نئے سیکرٹریٹ کا مقصد صرف دفتر کا قیام نہیں بلکہ اسے جماعتی سرگرمیوں، کارکنوں کے رابطے، تنظیمی امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک مو¿ثر مرکز بنانا ہے۔اجلاس کے شرکاءنے صوبے کی موجودہ غیر یقینی صورتحال پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل، ان کے آئینی و جمہوری حقوق اور صوبے کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ جماعت عوامی رابطہ مہم کو مزید وسعت دے گی اور بلوچستان کے ہر ضلع اور تحصیل میں کارکنوں کو متحرک کرتے ہوئے عوام کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنایا جائے گا۔اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، مولانا سرور ندیم، مولانا کمال الدین، مولانا حافظ محمد یوسف، مولانا نظر محمد حقانی، مولانا خورشید احمد، مولانا منظور مینگل، میر حسین ساسولی، حاجی نواز خان کاکڑ، حاجی غوث اللہ اچکزئی، میر زابد ریکی، حاجی شکور خان غیبزئی، حاجی عین اللہ شمس، حاجی دین محمد سیگی، جے ٹی آئی کے عبدالمنان سمیت صوبائی مجلس عاملہ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں