صوبائی مشیر کھیل و امور نوجوانان محترمہ مینا مجید بلوچ نے اپنے ایک بیان میں دُکی-چمالنگ روڈ کی تعمیر میں مصروف بے گناہ محنت کشوں کے کیمپ پر حملہ، سکیورٹی گارڈ کی شہادت اور 18 مزدوروں کے اغوا کی شدید مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض کوئی عام واقعہ نہیں بلکہ یہ بلوچستان کی ترقی اور امن پر براہ راست حملہ ہے “میں پوچھتی ہوں ان نہتے اور بے گناہ مزدوروں نے ان اسپانسرڈ تنظیموں کا کیا بگاڑا ہے ؟جو اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے دن بھر کڑی دھوپ میں مشقت کرتے ہیں ان غریبوں کا کسی سے کیا قصور ہو سکتا ہے لیکن انڈیا کے ان زرخرید غلاموں کو ان انسانی قدروں اور غریب کے چولہے سے کوئی واسطہ نہیں! یہ سب بیرونی آقاؤں کے ٹکڑوں پر پلنے والے اسپانسرڈ ایجنٹ ہیں جن کا واحد مقصد اپنے غیر ملکی آقاوں کو خوش کرنا اور بلوچستان کو اندھیروں میں رکھنا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو نام نہاد قوم پرست اور خود ساختہ کامریڈ ہر فورم پر یہ واویلا مچاتے نہیں تھکتے کہ بلوچستان کو محروم رکھا جا رہا ہے اور جو ہر برائی کا ملبہ پنجاب پر ڈال دیتے ہیں وہ آج خود سے یہ سوال کریں ! ترقیاتی منصوبوں اور غریب مزدوروں پر حملہ کرنے والی ان کالعدم تنظیموں کے خلاف ان کی زبانوں کو تالے کیوں لگ جاتے ہیں؟میرا ان نام نہاد سوشل ایکٹیوسٹس اور سیاسی بقراطوں سے بھی سیدھا سوال ہے جب محنت کشوں کو اغوا کیا جاتا ہے ترقی کےلیے مصروف مشینریوں کو جلائ جاتی ہیں اور عوام کے روزگار اور ترقی کے منصوبے میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ہوتے ہیں تو آپ کی حقوق کی جنگ سکتہ میں کیوں چلی جاتی ہے؟ ان دہشت گردوں کی مذمت کرنے میں آپ کو کون سا خوف یا مفاد مانع ہے؟اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے غیور بلوچ اور پشتون دونوں مل کر ان نام نہاد تنظیموں کے خلاف کھڑے ہوں اور ان کا گھیرا تنگ کریں۔ یہ عناصر ہماری اور ہمارے بچوں کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیںان دشمنوں کے یہ ناپاک خواب ان شاء اللہ کبھی پورے نہیں ہوں گے صوبائی حکومت اور ہماری مسلح افواج ان سے پوری قوت سے نبرد آزما ہیں اور ان شرپسندوں کا جلد مکمل صفایا کیا جائے گا۔
دُکی،چمالنگ روڈ پر مزدوروں کے اغوا کا واقعہ بلوچستان کی ترقی اور امن پر حملہ ہے: مینا مجید بلوچ
65










