کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمود خان اچکزئی کی دعوت پربنوں جرگہ منعقدہ11تا 14مارچ 2022کے فیصلوں کی روشنی میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026کو کوئٹہ میں جنوبی پشتونخوا کے عوام اور پشتونوں کا جرگہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جرگہ کا اعلامیہ پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے پیش کیا۔ 1۔یہ جرگہ جنوبی پشتونخوا میں موجودہ سیاسی، آئینی، جمہوری اور امن و امان کی انتہائی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خصوصاً معیشت کوسرکاری طور پرارادتاً تباہ کرنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ جرگہ اس امر کو ناگزیر سمجھتا ہے کہ پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے لیے آئین کی بحالی،حقیقی جمہوریت،قوموں کی برابری کا فیڈریشن اور بلوچستان (پشتون بلوچ علاقہ) صوبہ پشتونخوا اور تمام ملک میں امن امان کے قیام کو ضروری سمجھتا ہے، اور جرگہ 8 فروری2024 کے انتخابات کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ گردانتا ہے اور انتہائی بھونڈے طریقے سے غیر منتخب، غیر نمائندہ پارلیمنٹ /اسمبلیاں ملک اور صوبے پر مسلط کی گئی اور ماضی کی آمرانہ طرز حکمرانی کو دوام دیا گیا جس سے ملک، صوبے اور خصوصاً بلوچستان اور خیبر پشتونخوا دہشت گردی، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ، بین الاقوامی، قومی اور صوبائی شاہراہوں پر سفر سخت ترین خطرات سے دوچار ہیں۔ سویلین اتھارٹی ختم کردگئی ہے اور صوبے میں تمام اضلاع کو ایف سی کے کرنل چلا رہے ہیں اور امن وامان کا نام ونشان تک نہیں۔ مسلسل قتل غارت گیری، ٹرکوں کو جلانے اور لوٹنے کی وارداتوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اور حکومت ان ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو مبرا گردانتی ہے۔
یہ جرگہ ان تمام صورتحال کی ذمہ دار ی حکومت پر عائد کرتی ہے اور واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ غیر منتخب مسلط نااہل،ناکام، پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا خاتمہ کرکے نئے سرے سے ملک میں آزاد،شفاف، غیر جانبدار انتخابات کرائیں جائیں۔ اور 8فروری 2024ملکی تاریخ کے سب سے بوگس اور بھونڈے انتخابات کے نتیجے میں ملک پر مسلط بوگس پارلیمٹ کے ذریعے غیر آئینی، غیر جمہوری 26و 27ویں ترمیمات کو کھلی طو رپر آئین پاکستان کی پائمالی گردانتاہے اور اس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام سے دوچار کیا گیا، میڈیا اور عدلیہ کی آزادی ختم کی گئی اور آئین میں بنیادی انسانی حقوق کی پائمالی کی گئی۔کوئٹہ کا سہہ روزہ جرگہ ملکی سطح پر تمام سٹیک ہولڈرز،سیاسی جمہوری پارٹیاں، سیاسی جمہوری قوتیں، عدلیہ، فوج، وکلاء اور تمام مکتبہ فکر کے افراد پر مشتمل کانفرنس بلانے کا مطالبہ کرتا ہے جس میں ملک کے مسائل پر بحث ہو۔ 2۔یہ پروقار جرگہ جنوبی پشتونخوا میں امن کی بگڑتی ہوئی صورتحال دہشت گردی کے واقعات کی صورتحا ل پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مختلف اضلاع زیارت، کوئٹہ، ہرنائی، دکی، پشین، قلعہ عبداللہ، سبی سمیت دیگر اضلاع میں مسلح جتوں کی سرکاری سرپرستی میں عوام،تاجروں، پولیس اہلکاروں کے قتل عام کے واقعات کو دانستہ سرکاری پالیسی قرار دیتے ہوئے اسے عوام کو اپنے بنیادی سیاسی جمہوری معاشی حقوق سے دستبردار کرانے کا ہتھکنڈا قرار دیتا ہے۔ اور قومی شاہراہوں کوئٹہ کراچی، کوئٹہ چمن اور کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر شاہراہوں پر بدامنی،ٹرکوں، مال بردار گاڑیوں، باؤ زرز کو جلانے اور لوٹ مار کے واقعات نے جنوبی پشتونخوا کی معیشت کو تباہی سے دوچار کیا ہے۔ 3۔جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع، شاہراہوں، شہروں سے ایف سی کو فی الفور ہٹا کر صوبے میں سویلین اتھارٹی کو بحال کیا جائے۔
اور تمام اختیارات سویلین حکام کے حوالے کیا جائے۔ 4۔آج کا یہ جرگہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، صوبے میں فی الفور مقامی فورس لیویز کو بحال کرکے ان کی بہترین بنیادوں پر تربیت اور وسائل کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔ 5۔آج کا یہ پروقار جرگہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کی جدی پشتی زمینوں بالخصوص کوئٹہ، زیارت، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، ہرنائی، دکی، لورالائی، ژوب، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ، شیرانی میں معدنیات کے نام پر لاکھوں ایکڑ زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ غیرپشتون افراد اور فرم کے نام کرنے کو مکمل طو رپر مسترد کرتا ہے اور اس طرح سیٹلمنٹ کے نام پر ہمارے غیور عوام کی جدی پشتی زمینوں کو رشوت اور سرکاری مداخلت سے غیروں کے نام پر سیٹل کرنے کی کارروائی کی مذمت کرتا ہے۔ نیز جنگلات کے تقریباً تمام صوبے کے ساڑھے 24لاکھ ایکڑ اراضی جو صوبے کے غیور عوام اور قبائل کی ملکیت تھی اسے ختم کرکے سرکار کے نام انتقال کرنے کی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔ اور جرگہ اعلان کرتا ہے کہ حکومتی طور پر کی گئی تمام کارروائیاں نہ روکی گئی تو جرگہ اپنے عوام کی حمایت سے اُن نے خلاف جدوجہد اعلان کرے گی۔6۔ آج کا یہ سہہ روزہ جرگہ انویسمنٹ ایکٹ میں آئین کے برخلاف ترمیم کو کھلی طو رپر غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے۔ اور اسے صوبائی خودمختاری کی کھلی آئینی خلاف ورزی گردانتا ہے۔ اور مائنز ومنرل ایکٹ کی ترمیم کو صوبے کی حق ملکیت ختم کرنے اور عوام کی معدنی ملکیت کو غیروں کے حوالے کرنے اور کھلی طور پر عوام کو محروم کرنے کی دانستہ کوشش گردانتا ہے اور اس ایکٹ کو فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ 7۔ بلوچستان میں پشتونوں کے قومی سیاسی معاشی ثقافتی حقوق کے تحفظ کے لیے پشتون بلوچ برابری کو تسلیم کیا جائے یا سابقہ چیف کمشنر صسوبے کے پشتون وطن پر مشتمل جنوبی پشتونخوا کا صوبہ قائم کیاجائے۔ اور خان قلات کے پیش کردہ فارمولے جس میں صوبے میں پچاس فیصد بلوچ چالیس فیصد پشتون اور دس فیصد دیگرآباد کارشامل تھے پر عملدرآمد کیا جائے۔ 8۔یہ پروقار جرگہ ڈیورنڈ خط پر صدیوں سے جاری آمدوفت، دس سے بارہ تاریخی تجارتی راستوں پر آئینی، قانونی تجارت بحال کرنے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے یہ جرگہ ڈیورنڈ خط خصوصاً چمن، سپین بولدک، کدنی، پشین، بادینی، قمر الدین کاریز، غلام خان بندر، انگور اڈہ، تور خم، ناوا پاس باجوڑ اور دیگر تجارتی راستوں پر تجارت کی بندش کو پشتونوں کے خلاف گہری سازش اور ان کی اقتصادی بربادی قرار دیتا ہے۔اور بین الاقوامی تجارتی قوانین، ضابطوں، اصولوں اور ملک میں مروج قانون کے تحت ان راستوں پرسنیٹر مشاہد حسین کی سربراہی میں سینٹ کی کمیٹی کے اعلان کردہ منشیات واسلحہ کے علاوہ تمام اشیاء کی تجارت ہمارے عوام کا قانونی حق اعلان کرتا ہے۔
9۔آج کا یہ سہہ روزہ جرگہ اعلان کرتا ہے صوبے میں پشتون بلوچ سیال قومیں صدیوں سے اپنی اپنی زمینوں پر آباد تھیں اور 1969میں ایک فوجی آرڈیننس کے ذریعے چیف کمشنر صوبہ اور قلات سٹیٹ یونین کو یکجا کرکے بلوچستان کا نام دیا گیا اور اس طرح صوبے میں پشتونوں کی سیاسی آئینی جمہوری حقوق کی پائمالی جاری رہی۔ اور اس وقت مسلط بوگس مردم شماریوں کے ذریعے مسلسل پشتونوں کی حقیقی آبادیوں کو گھٹانے جس کے نتیجے میں ضلع، ڈویژنز اور خصوصاً ترقیاتی فنڈز اور سرکاری ملازمتوں میں پشتونوں کا کوٹہ مسلسل گھٹنانے کا عمل جاری رہا۔ پشتونوں کا یہ جرگہ اعلان کرتا ہے کہ پشتون بلوچ مسائل پر باہمی گفت وشنید اور مثبت اور تعمیری انداز میں باہمی مسائل کو حل کرنے کی تجویز کرتا ہے۔ 10۔پشتون بحیثیت قوم بلوچ قومی تحریک اور ان کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن جنوبی پشتونخوا میں بی ایل اے کے نام پر دہشت گردی کی کارروائیوں،قتل وغارت گیری، ٹرکوں، مال بردار گاڑیوں کو جلانے، اغواء گردی اور بھتہ خوری کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اوراسے پشتون بلوچ محکوم اقوام کے درمیان نفرتیں اور مسائل پیدا کرنے کی سازش قرار دیتا ہے۔ اور جرگہ پشتون بلوچ کے درمیان مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کرتی ہے جو بعد میں پشتون بلوچ مسائل کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کریگی۔ 11۔آج کا یہ پروقار جرگہ فارم47کی غیر قانونی، غیر آئینی حکومتوں کی جانب سے قومی وحدتوں کو ختم کرنے اور انتظامی بنیادوں پر غیر فطری صوبوں کی تشکیل کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ملک میں پشتونوں کے تسلیم شدہ خطوں کو متحد کرکے قومی لسانی تاریخی جغرافیائی بنیادوں پرمتحدہ پشتون یونٹ (صوبہ) کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔ 12۔یہ پروقار جرگہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنماء عمران خان سمیت علی وزیر، ماہ رنگ بلوچ، حاجی صمد خان، نور اللہ ترین، حنیف پشتین، فرید آفریدی اور تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کرانے، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب اور سیاسی بنیادوں پر ہزاروں افراد کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ 13۔جرگہ جنوبی پشتونخوا یعنی بلوچستان کے صوبے میں شامل تاریخی پشتون علاقوں میں پشتونوں کی مرضی اور منشاء کے بغیر کسی قسم کے ردوبدل یا انہیں قلاتی بلوچستان کے کسی علاقے میں ضم کرنے کو یکسرمسترد کرتا ہے۔ 14۔ آج کا یہ جرگہ قرار دیتاہے کہ جنوبی پشتونخوا سے تعلق رکھنے والے سرکاری آفیسران وملازمین کو ان کی مرضی کے برخلاف جبری طور پر بلوچ علاقوں میں ٹرانسفر پوسٹنگ کو مسترد کرتا ہے۔ 15۔آ ج کا یہ پروقار جرگہ تمام صوبہ خصوصاً پشتون علاقوں میں پانی کی گرتی ہوئی سطح، پینے کے صاف پانی کی نایابی اور اس طرح تعلیم، صحت،زراعت،آبنوشی اور آبپاشی کی سہولیات سے محرومی پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت صحیح اقدامات نہ کیئے تو یہ جرگہ اپنے وطن کی بقاء کے لیے ضروری اور لازمی اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرگے گی۔ 16۔زیارت میں گزشتہ مہینے دہشت گردی کے واقعات میں درجنوں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعات سمیت امن وامان کی بگڑی ہوئی صورتحال کی جامع انکوائری اور تحقیقات کے لیے وفاقی سطح پر اپوزیشن کے پارلیمانی پارٹیوں پر مشتمل انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے۔ جو تحقیقات کے بعد تمام حقائق پارلیمنٹ میں پیش کرے۔ 17۔ آج کا یہ پروقار جرگہ فارم 47کی مسلط حکومت کے ذریعے صوبے کی عوام کو نام نہادمسلط دہشت گرد ی کے ذریعے اپنے آبائی وطنوں،پدری زرعی زمینوں گاؤں اور گھروں سے بیدخل کرنے کے ناروا اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور حکومت کو ناروا ناجائز غیر آئینی، غیر قانونی بیدخلی کو فوری بند کرنے پر زور دیتا ہے۔ 18۔ آج کا یہ پروقار جرگہ جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں جرگہ کمیٹیاں تشکیل کا اعلان کرتا ہے جوموجودہ صورتحال میں جاری بدامنی، ڈاکہ زنی، پراکسیز کے ذریعے مسلط دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کے خلاف حکمت عملی اورسیاسی جمہوری جدوجہد کا راستہ اور اپنے اضلاع میں امن کے قیام میں مدد اپنا مثبت تعمیری کردار ادا کرینگے۔ 19۔ کوئٹہ کا یہ سہہ روزہ پروقار جرگہ مرکزی وصوبائی حکومتوں سے پشتونوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جرگہ کمیٹی تشکیل کررہی ہے جو بعد میں پشتونوں کو درپیش قومی، آئینی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی مسائل پر سیاسی جمہوری آئینی احتجاج اور مذاکرات کی راہ اپنائے گی۔
متحدہ پشتون صوبے کا قیام ضروری ہے، پشتون قومی جرگہ
40











